سعودی عرب:نیوم میں 5 ارب ڈالرکی لاگت سے گرین ہائیڈروجن پلانٹ کی تعمیرکا جلد آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب رواں ماہ میں جدید بسائے جانے والے شہر نیوم میں گرین ہائیڈروجن پلانٹ کی تعمیرکا کام شروع کر دے گا۔

اس نئے شہر میں توانائی اور پانی کے منصوبے سربراہ پیٹرٹیریم کے مطابق مملکت 2026ء تک نیوم میں 5 ارب ڈالر کی لاگت سے کاربن فری ہائیڈروجن فروخت کرنے کے منصوبے پرعمل پیراہے۔انھوں نے بتایا کہ انجینئروں نے سعودی عرب کے شمال مغرب میں واقع اس جگہ کو ہموارکرنے کا کام مکمل کرلیا ہے اورامریکامیں قائم ایئر پروڈکٹس اینڈ کیمیکلزانکارپوریٹڈ جلد ہی اس جگہ پلانٹ کی تعمیر شروع کر دے گی۔

ٹیریم ماضی میں جرمنی کے آر ڈبلیو ای اے جی کے چیف ایگزیکٹو آفیسررہ چکے ہیں۔ انھوں نے ایک انٹرویو میں کہا کہ شاید ایشیا سے امریکاتک کمپنیوں کی جانب سے صاف توانائی کی مانگ کی جائے گی کیونکہ ہائیڈروجن کو توانائی کی صاف ستھری شکلوں میں منتقلی کے عمل میں ایک مرکزی حیثیت حاصل ہے۔

ٹیریم نے کہا کہ ’’یورپ، جاپان، جنوبی کوریا اور امریکا کے کچھ حصوں کے درمیان مقابلہ متوقع ہےاور صاف توانائی ان لوگوں کو فروخت کی جائے گی جو سب سے زیادہ قیمت کی بولی لگائیں گے‘‘۔

واضح رہے کہ سعودی عرب ہائیڈروجن کا دنیا کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ملک بننا چاہتا ہے۔یہ ایندھن جلنے پرصرف پانی کے بخارات خارج کرتا ہے جس سے یہ تیل، قدرتی گیس اورکوئلے کے مقابلے میں کم آلودگی پیدا کرتا ہے۔ بلومبرگ این ای ایف کے مطابق اسے بڑے پیمانے پر تیار کرنے کی ٹیکنالوجی ابھی تک ثابت نہیں ہوئی ہے لیکن اگر پیداکنندگان لاگت میں کمی لاسکیں تو 2050 تک مارکیٹ کی مالیت 700 ارب ڈالر تک سالانہ ہوسکتی ہے۔

سعودی عرب کا خیال ہے کہ صاف توانائی کی ترقی کے باوجود تیل کی مانگ کئی دہائیوں تک زیادہ رہے گی اوروہ اپنی خام پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیےاربوں ڈالرخرچ کر رہا ہے۔اس کے علاوہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان معیشت کو متنوع بنانے کے ویژن 2030ء پر عمل پیراہیں اور ہائیڈروجن کی ترقی ان کی حکمت عملی کا ایک اہم حصہ ہے۔

سعودی عرب کی تیل کی سب سے بڑی کمپنی آرامکو گیس کوتبدیل کرنے اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج پر قابوپانے کے لیےنیلی ہائیڈروجن بنانے کی کاوشوں کی قیادت کر رہی ہے۔

نیوم میں صاف توانائی کے ہیلیوس کے نام سے منصوبے کی قیادت ایئرپروڈکٹس اور اے سی ڈبلیو اے پاورانٹرنیشنل سمیت ایک کنسورشیم کررہا ہے۔اے سی ڈبلیو ایک سعودی کمپنی ہے۔

واضح رہے کہ سبز ہائیڈروجن قابل تجدید توانائی کے ساتھ تیار کی جاتی ہے۔کمپنیاں پانی سے ہائیڈروجن کو تقسیم کرنے کے لیے 120 تھائسن کرپ اے جی الیکٹرولائزر استعمال کریں گی جن میں سے ہرایک قریباً40 میٹرلمبا ہے۔ یہ ایندھن سعودی عرب سے امونیا میں تبدیل کرکے بھیجا جائے گا جو گیس کی شکل میں ہائیڈروجن کے مقابلے میں نقل وحمل میں آسان ہے۔

ٹیریم کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ ’’حجم میں بہت بڑا ہے اور مسلسل آپ کو نامعلوم چیلنجزدیتا ہے‘‘۔اس پلانٹ کوقریباً 4 گیگاواٹ شمسی توانائی اورہواسے پیدا ہونے والی بجلی سے چلایا جائے گا۔یوں یہ عالمی سطح پرتعمیر ہونے والے سب سے بڑے پلانٹس میں سے ایک ہوگا۔اس علاقے کا انتخاب سورج کی روشنی، ہوا اورکثیرخالی رقبہ کی بناپرکیا گیا تھا تاکہ شمسی توانائی کے پینل اور ٹربائنیں بآسانی نصب کی جا سکیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں