جوہری ایران

’نئے جوہری معاہدے میں ایران میں روسی کمپنیاں اور ان کے پراجیکٹس شامل نہیں ہوں گے‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

روس کی سب سے بڑی ریاستی توانائی کمپنی ایران کے سب سے طاقتور نیوکلیئر سائٹس میں سے ایک کی تعمیر کے لیے 10 ارب ڈالر کے معاہدے کو کیش کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ ایران کے ساتھ عن قریب طے پانے والے جوہری معاہدے میں دی گئی رعایتوں کےتحت دونوں ممالک پر سے پابندیاں اٹھانا شامل ہوں گی۔

روسی اور ایرانی دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ روس کی معروف توانائی کمپنی ’روسا ٹام‘ کا تہران میں بوشہر جوہری پلانٹ کی توسیع کے لیے ایران کی اٹامک انرجی آرگنائزیشن کے ساتھ 10 بلین ڈالر کا معاہدہ ہے۔

روس اور امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے منگل کے روز تصدیق کی کہ آئندہ جوہری معاہدے کی مستثنیات میں کئی کمپنیاں شامل ہیں جو ماسکو اور تہران پر پابندیاں منسوخ کر دیں گے تاکہ روس اس معاہدے کو پورا کر سکے۔

محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے 2015 کے اصل جوہری معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے منگل کو کہا کہ یقیناً ہم جوہری منصوبوں میں روسی شرکت کو منظور نہیں کریں گے جو JCPOA کے مکمل نفاذ کی بحالی کا حصہ ہیں۔

روسی وزارت خارجہ نے منگل کو اسی طرح کا ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل کے معاہدے کے متن میں جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن کی بحالی کے لیے اضافہ کیا گیا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ پلان سے متعلق تمام روسی منصوبوں کو امریکا اور یورپی یونین کی طرف سے ماسکو پرعاید پابندیوں کے منفی اثرات سے محفوظ رکھا جائے گا۔

رپورٹ کے مطابق یوکرین میں روس کے فوجی آپریشن کے جواب میں روس کی معیشت پر امریکی اور یورپی پابندیوں کی بگڑتی ہوئی صورت حال کی روشنی میں پابندیاں اٹھانے سے روس کے روسا ٹام کو آمدنی کا ایک اہم ذریعہ ملے گا۔

ماسکو کو دی جانے والی رعایتوں نے امریکی کانگریس میں مایوسی کو جنم دیا جہاں سینیر ریپبلکن رہ نماؤں نے بائیڈن انتظامیہ پر ایرانی حکومت کے ساتھ معاہدے کو محفوظ بنانے کے لیے روس پر عائد پابندیوں کو کمزور کرنے کا الزام لگایا۔

فری بیکن اخبار نے منگل کو رپورٹ کیا کہ قانون سازوں کے درمیان گردش کرنے والی ایک سیاسی دستاویز سے پتہ چلتا ہے کہ نیا جوہری معاہدہ روسی صدر ولادیمیر پوتین کے لیے پابندیوں سے کیسے نکلنے کا راستہ ہو گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں