روس اور یوکرین

9 روسی فوجیوں کے بدلے میں میلیٹوپول کے مغوی یوکرینی میئر کی رہائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

بدھ کے روزیوکرین کے حکام نے اعلان کیا کہ روسی فورسز نے جنوبی یوکرین کے شہر میلیٹوپول کے میئر ایوان فیدروف کو اغوا کیے جانے کے چند دن بعد رہا کر دیا ہے۔

یوکرین کے ایوان صدر کی ایک ترجمان داشا زریونا نے بدھ کی رات گئے یوکرائنی ٹیلی ویژن کو بتایا کہ فیدروف کا 9 گرفتار روسی فوجیوں کی رہائی کے بدلے رہا کرایا گیا ہے جن کی عمریں 20 سے 21 سال کے درمیان ہیں۔

یہ بنیادی طور پر بچے ہیں جنہیں جنگ کے لیے بھرتی کیا گیا۔ روسی وزارت دفاع کے مطابق وہ یوکرین میں نہیں ہیں۔ زریونا نے مزید کہا کہ لیکن پوری دنیا نے دیکھا کہ وہ وہاں ہیں۔

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے انکشاف کیا تھا کہ روسی فوجیوں نے جمعہ کے روز فیڈروف کو اغوا کرلیا تھا۔ انہوں نے میلیٹوپول پر حملہ کرنے کے دوران دشمن کے ساتھ تعاون کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ یہ شہرماریوپول اور کھیرسن شہروں کے درمیان واقع ہے۔

بدھ کے روز زیلنسکی ٹیلی گرام پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں نمودار ہوئے۔ انہوں نے فیڈروف سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ وہ زندہ ہیں۔

زیلنسکی
زیلنسکی

فیدروف نے جواب دیا کہ میں بہتر حالت میں ہوں۔ میرے بارے میں فکر مند رہنے پر شکریہ۔ مجھے صحت یاب ہونے کے لیے ایک یا دو دن درکار ہوں گے اور پھر میں آپ کے حکم پر آپ کےساتھ ہوں گا۔

فیدوروف کو اس وقت اغوا کیا گیا جب وہ سپلائی کے مسائل کو سنبھالنے کے لیے اپنے شہر میں ایک کرائسز سیل میں تھے۔

زیلنسکی نے ہفتے کے روز اپنے فرانسیسی ہم منصب عمانویل میکروں اور جرمن چانسلر اولاف شولز سے کہا تھا کہ وہ ان کی رہائی میں مدد کریں۔

جنوبی شہر ڈنیبروڈنی کے میئر کو بھی اتوار کو اغوا کر لیا گیا تھا۔ یورپی یونین نے ان اغوا کی مذمت کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں