.

سربراہ سینٹ کام کا عرب اتحادیوں کوامریکی اسلحہ کی فروخت میں تاخیرپراظہارِافسوس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مشرق اوسط میں امریکا کے اعلیٰ فوجی جنرل نے خلیج میں اتحادیوں کو ہتھیاروں کی فروخت میں تاخیر پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور’’علاقائی سلامتی اور ہماری شراکت داری کے حوالے سے امریکاکے عزم‘‘ کے اعادے پرزور دیا ہے۔

امریکا کی مرکزی کمان کے سربراہ جنرل فرینک میکنزی نے ایران کو روکنے کے طریقوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا:’’ ہمیں اس بات کا عملی ثبوت دینے کی ضرورت ہے کہ امریکا خطے میں ایک قابلِ اعتماد قوت ہے‘‘۔

جنرل میکنزی نے ایوان نمایندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی میں جمعرات کو بیان دیتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں خطے کی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ یعنی ایران کی میزائل فورس ہے،اس کے مقابلے میں مربوط فضائی اور میزائل دفاع (آئی اے ایم ڈی) کی شکل میں تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ بائیڈن انتظامیہ کے اقتدار سنبھالنے اور خلیجی ممالک سے متعلق خارجہ پالیسی کے کئی فیصلوں کے بعداس کے خلیجی اتحادیوں خاص طور پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلقات میں قدرے سردمہری آئی ہے۔

صدرجوبائیڈن نے برسراقتدار آنے کے بعد جو اقدامات کیے،ان کی کچھ تفصیل حسب ذیل ہے:

• یمن میں عرب اتحاد کی فوجی کارروائیوں کی حمایت کا خاتمہ۔

• ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا اور اس کے رہ نماؤں کے نام دہشت گردی کی بلیک لسٹ سے ہٹانا۔

• الریاض اور متحدہ عرب امارات کو اسلحے کی فروخت منجمدکرنا۔

• سعودی عرب کے ساتھ تعلقات پر نظرثانی کرنے کا عہد۔

البتہ حال ہی امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا ہے کہ وہ سعودی عرب پرقریباً روزانہ ڈرون اور میزائل حملوں اور ابوظبی پرحالیہ ڈرون حملوں کے بعد حوثیوں کودوبارہ دہشت گرد نامزد کرنے پرغورکررہے ہیں۔ یہ گروپ یمن میں برسوں سے جاری جنگ کے سیاسی حل پر بات چیت سے بھی انکاری ہے۔

امریکا کے بنیادی طور پر ترقی پسند ڈیموکریٹس نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا حوالہ دیتے ہوئے خلیجی ممالک کوہتھیاروں کی فروخت روکنے کی کوشش کی ہے۔

تاہم اعلیٰ امریکی جنرل نے اپنے بیان میں کہا کہ علاقائی شراکت داروں کے ساتھ زیادہ مکمل اور تیزی سے انٹیلی جنس کے اشتراک کی ضرورت ہے۔ البتہ ان کا کہنا تھا کہ ہمسایہ ممالک میں نئی غیرملکی افواج تعینات کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

جنرل میکنزی نے خبردارکیاکہ اتحادیوں اور شراکت داروں کو غیرملکی فوجی فروخت (ایف ایم ایس) میں تاخیر کی وجہ سے سینٹ کام کی’’مؤثر، کفایت شعار‘‘اجتماعی سلامتی" حاصل کرنے کی صلاحیت میں رکاوٹ ڈالی جا رہی ہے۔

خطے میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں کمی سے متعلق جنرل میکنزی نے کہا کہ اس سے علاقے اورانفرادی ممالک کی سلامتی اور استحکام کے حوالے سے امریکا کے متزلزل عزم کا تاثرپیدا ہونے کو تقویت ملی ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس سے امریکی حریفوں کو ایران کی سدجارحیت کو کمزور کرنے کا موقع بھی مل گیا ہے۔اس تاثر کا مقابلہ کرنے کے لیے علاقائی سلامتی اور ہماری شراکت داری کے حوالے سے امریکا کے عزم کی قابل اعتماد یقین دہانی کے مظاہرے کی ضرورت ہے۔

یمنی حوثی

یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے بارے میں تفصیلی بات کرتے ہوئے جنرل میکنزی نے کہا کہ حوثی خطے میں ایران کے تمام وابستگان میں سب سے کم روک تھام اور سب سے زیادہ عدم استحکام پیدا کرنے والے ہیں۔

انھوں نے یہ بھی خبردارکیا کہ حوثی یمن میں جنگ کو مزیدطول دینے کو تیارہیں اور ایرانیوں نے انھیں تمام دستیاب وسائل مہیا کیے ہیں جس سے بڑے پیمانے پر شہری ہلاکتوں کا خطرہ ہے اور خطے میں امریکی افواج کو دھمکیاں دی جارہی ہیں۔

جنرل میکنزی نے متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب پر حالیہ حملوں کی طرف اشارہ کیا جس میں تیل کے بنیادی ڈھانچے کے بڑے مراکز شامل تھے۔انھوں نے کہا کہ ممکنہ طور پر مغربی اور وسطی یمن میں علاقائی فوائد کے ساتھ ساتھ سعودی قیادت والے اتحاد کے لیے امریکا کی حمایت میں کمی کی وجہ سے حوثیوں نے مآرب میں اپنی جنگی مہم کے ساتھ سعودی عرب کے خلاف روزانہ سرحد پار ڈرونز، بیلسٹک میزائلوں اور کروز میزائلوں کا استعمال کرتے ہوئے حملے کیے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں