روس اور یوکرین

واشنگٹن یوکرین کے جلتے تنازع پر تیل چھڑک رہا ہے : روسی مندوب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں آج جمعے کے روز روس کی اُس قرار داد کے منصوبے پر رائے شماری نہیں ہو گی جس کا مقصد یوکرین میں امداد کی وصولی اور شہریوں کا تحفظ ہے۔

اقوام متحدہ میں روس کے مندوب ویسلی نیبنزیا نے جمعرات کے روز سلامتی کونسل میں اپنے خطاب کے دوران میں مغربی ممالک پر الزام عائد کیا کہ وہ غیر معمولی نوعتی کا دباؤ ڈال رہے ہیں جس کی مثال پہلے نہیں ملتی۔ مندوب کے مطابق ایسی معلومات ملی ہیں کہ روس کی قرار داد کے منصوبے کے لیے کسی جانب سے حمایت موجود نہیں۔

نیبنزیا نے واضح کیا کہ "بہت سے ساتھیوں اور کئی وفود نے ہمیں آگاہ کیا ہے کہ انہیں مغربی شراکت داروں کی جانب سے دباؤ کا سامنا ہے۔ اس مقصد کے لیے بلیک میلنگ اور دھمکیوں کا راستہ بھی اپنایا جا رہا ہے"۔

مندوب نے باور کرایا کہ امریکا اُن کے ملک اور یوکرین کے بیچ تنازع پر تیل چھڑک رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک بھی یوکرین کو فوجی سپورٹ کے ذریعے تنازع کو بھڑکانے میں مصروف ہیں۔

روسی مندوب نے کہا کہ یوکرین میں لڑائی کے حوالے سے مغرب کی جانب سے "جھوٹی معلومات اور گمراہ کن مہم" کا سلسلہ جاری ہے۔

مغربی سفارت کار یہ واضح کر چکے ہیں کہ روسی قرار داد کا منصوبہ ناکامی سے دوچار ہونا تھا اس لیے کہ سلامتی کونسل کے پندرہ میں سے زیادہ تر ارکان کو رائے شماری میں شریک نہیں ہونا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ روسی قرار داد میں نہ تو محاسبے کا ذکر ہے اور نہ ماسکو کے اپنے پڑوسی ملک پر حملے کا اقرار کیا گیا۔ علاوہ ازیں فائر بندی اور روسی افواج کے انخلا پر بھی کوئی بات نہیں کی گئی۔

یوکرین میں روسی فوج کے آپریشن کا آج 23 واں روز ہے۔ یہ آپریشن 24 فروری کی صبح شروع کیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں