تہران یمن میں حل کے آڑے آ رہا ہے : جنرل میکنزی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی مرکزی کمان کے کمانڈر جنرل کینتھ میکنزی نے باور کرایا ہے کہ ایران یمن میں کسی حل تک پہنچنے کی راہ میں رکاوٹ بن رہا ہے۔

امریکی ایوان نمائندگان میں مسلح افواج کی کمیٹی کی جانب سے منعقد اجلاس میں میکنزی نے کہا کہ " تہران نے ایک بوری چاول یا کوئی بھی غذائی مواد یمن نہیں بھیجا ، درحقیقت اس نے جو کچھ بھیجا وہ لوگوں کو ہلاک کرنے کے لوازمات ہیں"۔

امریکی جنرل نے باور کرایا کہ یمن ، عراق اور شام میں تنازعات بھڑکانے کے لیے ایران خطے میں اپنے ایجنٹوں پر انحصار کرتا ہے۔

جنرل میکنزی کے مطابق سعودی عرب کو حوثی ملیشیا کی جانب سے مسلسل حملوں کا سامنا ہے۔ ان حملوں میں ایران کی جانب سے پیش کیے گئے جدید ڈرون طیارے اور میزائل استعمال ہو رہے ہیں ... حوثیوں نے اپنی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے امارات میں شہری ٹھکانے اور امریکی اڈوں کو بھی شامل کر لیا ہے .. ایران کے میزائل خطے میں ہر ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکے ہیں"۔

اس سے قبل جنرل میکنزی نے بدھ کے سینیٹ میں مسلح افواج کی کمیٹی کے اجلاس میں کہا تھا کہ ایران 1979ء میں جنم لینے والے خطرے کی طرح مشرق وسطی میں امریکی مفادات اور خطے کے امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن گیا ہے۔

امریکی مرکزی کمان کے سربراہ کے مطابق ایران کے پاس 3000 سے زیادہ بیسلٹک میزائل موجود ہیں جن میں کئی میزائل خطے میں اسرائیل سمیت امریکا کے حلیفوں تک پہنچ سکتے ہیں۔

جنرل میکنزی نے گذشتہ ہفتے اسرائیل کا دورہ کیا تھا۔ اس دورے میں انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ ، وزیر دفاع بینی گینٹز اور چیف آف اسٹاف جنرل ایویو کوچاوی سے بات چیت کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں