ایران جوہری معاہدہ

جوہری معاہدے میں ایران کی واپسی کے لیے "مشکل" فیصلوں پر تیار ہیں: امریکی ذمے دار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی وزارت خارجہ کے ایک ذمے دار نے باور کرایا ہے کہ ان کا ملک 2015ء میں طے پانے والے جوہری معاہدے میں ایران کی واپسی یقینی بنانے کے لیے "مشکل فیصلوں" کے لیے تیار ہے۔

مذکورہ امریکی ذمے دار نے ہفتے کے روز "ٹائمز آف اسرائیل" ویب سائٹ کو بتایا کہ ان کا ملک پابندیوں کے حوالے سے "اعلانیہ مذاکرات" نہیں کر رہا اور نہ "متعین دعوؤں کا جواب" دے رہا ہے۔ البتہ واشنگٹن مشترکہ جامع عملی منصوبے (جوہری معاہدے) پر مکمل عمل درامد کی جانب متبادل واپسی کے جزو کے طور پر ان پابندیوں کو اٹھانے پر تیار ہے۔

امریکی ذمے دار نے زور دیا کہ "ایران کی خطرناک پالیسیوں کا سامنا کرنے کے حوالے سے واشنگٹن اور تل ابیب کے مشترکہ مفادات ہیں۔ جوہری معاہدے میں واپسی کی صورت میں امریکا اپنی مضبوط پوزیشن برقرار رکھے گا۔ اس کو مطلوبہ امور کی درستی کے واسطے استعمال کیا جا سکے گا جن میں ایرانی پاسداران انقلاب سے نمٹنا شامل ہے"۔

اس سے قبل انگریزی ویب سائٹ AXIOS نے بدھ کے روز بتایا تھا کہ امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ ایرانی پاسداران انقلاب کا نام دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے خارج کرنے پر غور کر رہی ہے۔ اس کے مقابل تہران کو مشرق وسطی میں جارحیت اور تناؤ کم کرنے کے لیے علانیہ پاسداری کرنا ہو گی۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ اور وزیر خارجہ یائر لیپڈ نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ "ہمارے لیے اس بات کا یقین کرنا ناممکن ہے کہ امریکا اس تنظیم (پاسداران) کے بطور دہشت گرد تنظیم تعارف کو ختم کر دے گا"۔

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے 2019ء میں ایرانی پاسداران انقلاب کا نام دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔ اس سے قبل مئی 2018ء میں امریکا نے یک طرفہ طور پر جوہری معاہدے سے علاحدگی اختیار کر لی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں