روس اور یوکرین

روس اور یوکرین معاہدے کے قریب پہنچ گئے:ترک وزیرخارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترکی نے کہا ہے کہ روس اور یوکرین نے جنگ کو روکنے کے لیے مذاکرات میں پیش رفت کی ہے اور دونوں متحارب فریق ایک معاہدے کے قریب گئے ہیں۔

ترک وزیرخارجہ مولود شاوش اوغلو نے جنوبی صوبہ انطالیہ میں گفتگو کرتے ہوئےکہا کہ ’’یقیناً جاری جنگ کے دوران میں اس سے نمٹنا آسان بات نہیں جبکہ عام شہری ہلاک ہورہے ہیں لیکن ہم یہ کہنا چاہیں گے کہ اس کے باوجود بھی بات چیت میں پیش رفت ہورہی ہے اور فریقین ایک معاہدے کے قریب ہیں‘‘۔

مولود شاوش اوغلونے رواں ہفتے روس اوریوکرین کا دورہ کیا ہے۔ترکی کے دونوں فریقوں کے ساتھ مضبوط تعلقات استوار ہیں اور اس نے حالیہ بحران میں خود کو ثالث کے طور پرپیش کرنے کی کوشش کی ہے۔

انقرہ نے گذشتہ ہفتے انطالیہ میں روس اور یوکرین کے وزرائے خارجہ کے درمیان بات چیت کی میزبانی کی تھی۔شاوش اوغلو نے کہا کہ ترکی دونوں ممالک کی مذاکراتی ٹیموں کے ساتھ رابطے میں ہے لیکن انھوں نے مذاکرات کی تفصیل بتانے سے انکارکیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ’’ہم ایک دیانت دارثالث اور سہولت کار کا کردارادا کرتے ہیں‘‘۔

دریں اثناء صدارتی ترجمان ابراہیم کالین نے روزنامہ حریت کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ فریقین چھے نکات پر بات چیت کررہے ہیں:یوکرین کی غیرجانبداری، تخفیف اسلحہ اور سلامتی کی ضمانتیں، نام نہاد ’’ڈی نازی فیکیشن‘‘، یوکرین میں روسی زبان کے استعمال میں حائل رکاوٹوں کا خاتمہ، یوکرین سے الگ ہونے والے خطے دونبس کی حیثیت اور 2014 میں روس کے ساتھ جزیرہ نما کریمیا کے الحاق کی حیثیت۔

یوکرین کے صدرولودی میرزیلنسکی نے بار بار امن کی اپیل کی ہے اور روس پر زوردیا ہے کہ وہ حملے کے خاتمے کے لیے ’’بامعنی‘‘مذاکرات کو قبول کرے۔انھوں نے ہفتے کے روز سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی اپنی نئی ویڈیو میں کہا کہ یہ یوکرین کی علاقائی سالمیت اور انصاف کی تجدید کے لیے ملاقات، بات چیت کا وقت ہے۔

ترکی کا کہنا ہے کہ وہ زیلنسکی اور روسی صدر ولادیمیر پوتین کے درمیان ملاقات کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔ترک وزیرخارجہ کا اس ضمن میں کہنا تھاکہ ’’ہم دونوں ملکوں کے درمیان امن کے لیے دن رات کام کررہے ہیں‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں