روس کی یوکرین کو ماریوپول حوالے کرنے کے لیے گھنٹے کی مہلت، کیئف کا ہتھیار نہ ڈالنے کا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

روسی دفاع نے ماریوپول میں یوکرین کی افواج سے کہا ہے کہ وہ ہتھیار ان کے حوالے کر دیں اور انہیں پیر کی صبح تک ہتھیار ڈالنے اور شہر حوالے کرنے کا وقت دیا ہے۔ جبکہ یوکرین کی نائب وزیر اعظم ارینا ویریشچک نے ماریپول شہر میں ہتھیار ڈالنے کی روسی دھمکی کو مسترد کر دیا اور اس بات کی تصدیق کی کہ ہتھیار ڈالنے کا امکان بہت کم ہے۔ یوکرین نے اس بارے میں روسی فریق کو آگاہ کر دیا۔

روس کے نیشنل سینٹر فار ڈیفنس مینجمنٹ کے ڈائریکٹر کرنل جنرل میخائل میزنتسیف نے یوکرینی قوم پرستوں کا حوالہ دیتے ہوئے وزارت دفاع کی طرف سے تقسیم کی گئی بریفنگ میں کہا کہ "اپنے ہتھیار نیچے رکھو۔" انہوں نے مزید کہا کہ "ایک ہولناک انسانی تباہی رونما ہو رہی ہے۔ ہتھیار ڈالنے والوں کو ماریوپول سے محفوظ راستے کی ضمانت دی جاتی ہے۔ روسی دفاعی اہلکار نے مزید کہا کہ ماریوپول سے انسانی ہمدردی کی راہداری 21 مارچ کو ماسکو کے وقت 10:00 بجے پر کھل جائے گی۔

ماریوپول کے میدان جنگ میں یوکرینی فوجی
ماریوپول کے میدان جنگ میں یوکرینی فوجی

’آر آئی اے‘ خبر رساں ایجنسی نے روسی وزارت دفاع کے حوالے سے بتایا ہے کہ یوکرین کے پاس ماریوپول کی حوالگی کی مہلت کا جواب دینے کے لیے 21 مارچ کی صبح تک کا وقت ہے۔

روس نے اقوام متحدہ اور ریڈ کراس سے یوکرینی افواج کے ماریوپول سے نکلنے کی نگرانی کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ روسی دفاع کی رپورٹ کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک 330,000 یوکرین سے روسی علاقے میں منتقل ہو چکے ہیں۔

یوکرین میں روسی فوجی آپریشن پیر کے روز 26ویں روز میں داخل ہو گیا جب کہ روسی فوج یوکرین کے فوجی اہداف کو تباہ کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ یوکرین کی قومی سلامتی اور دفاعی کونسل کے سیکرٹری نے انکشاف کیا ہے کہ یوکرین کو چند دنوں میں امریکی ہتھیاروں کی نئی کھیپ موصول ہو جائے گی۔ اس کھیپ میں جیولین اور اسٹنگر میزائل شامل ہیں۔

یوکرین میں العربیہ اور الحدث ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ خارکیف میں زیادہ تر بازار بند ہیں جب کہ شہر میں اب بھی بم دھماکے ہو رہے ہیں۔

ذرائع نے انکشاف کیا کہ روسی افواج شہر میں تعینات ہیں اور وہاں خندقیں کھود رہی ہیں۔

اپنی طرف سے یوکرینی فوج کے چیف آف سٹاف نے اپنے ملک پر بیلاروسی افواج کے حملے کا امکان ظاہر کیا ہے جس کے بارے میں یوکرین کے ایوان صدارنے بھی خبردار کیا تھا۔

بعد میں یوکرینی صدر کے ایک مشیر نے کہا کہ روس کے پاس اتنی قوت نہیں ہے کہ وہ مزید آگے بڑھ سکے۔روس کے ساتھ اگلے مورچوں پر لڑائیاں جزوی طور پر منجمد ہیں۔

یوکرینی حکام نے اعلان کیا کہ ماریوپول میں یورپی سٹیل کے سب سے بڑے پلانٹ میں سے ایک کو نقصان پہنچا ہے، جبکہ سٹی کونسل نے اعلان کیا کہ ماریوپول سے ہزاروں افراد کو گذشتہ ہفتے روس بھیج دیا گیا تھا۔

ماریوپول سٹی کونسل نے اعلان کیا کہ روسی افواج نے محصور ساحلی شہر میں ایک آرٹ اسکول پر بمباری کی ہےجہاں تقریباً 400 رہائشیوں نے پناہ حاصل کی تھی۔ ہفتے کے روز ہونے والے اس حملے میں جانی نقصان کی فوری طور پر کوئی اطلاع نہیں ہے حالانکہ کونسل کا کہنا ہے کہ عمارت تباہ ہو گئی ہے اور لوگ ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔

روسی حکام کا کہنا تھا کہ گذشتہ 4 دنوں کے دوران تقریباً 11 ہزار یوکرینی مہاجرین کریمیا پہنچے ہیں جب کہ روسی وزارت دفاع نے ایک دن کے اندر یوکرین کی 62 فوجی تنصیبات کو تباہ کرنے کا اعلان کیا، انہوں نے مزید کہا کہ فضائی دفاع نے ایک ہیلی کاپٹر اور 6 یوکرینی ڈرون کو مار گرایا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے فوجی آپریشن کے آغاز سے اب تک 207 ڈرون مار گرائے ہیں اور 1,467 یوکرینی ٹینک تباہ کیے ہیں۔ ایک تربیتی مرکز پر بمباری میں 100 یوکرینی فوجیوں اور اجرتی جنگجوؤں کوہلاک کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں