سعودی فن کار جس نے 'القط العسیری' کو مجسموں کی صورت میں پیش کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے صوبے عسیر میں ایک مقامی فن کار نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو صوبے کے رنگ کے امتزاج کے ساتھ پیش کیا ہے۔

سعودی فن کار ماجد عسیری اپنے فن پاروں کے ذریعے صوبے کی ثقافتی ورثے کو اجاگر کرنے میں مصروف ہیں۔

ماجد ایک فن کار ہونے کے ساتھ "خصوصی افراد" کے فنی تربیت کے استاد بھی ہیں۔ انہوں نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ بچپن سے ہی رنگوں سے بے پناہ محبت رکھتے ہیں۔ ماجد نے صوبے کے سابق اور موجودہ بعض فن کاروں کے کام کا بغور مشاہدہ کیا۔ انہوں نے متعدد فن کاروں اور مصوروں کے ہاں اس فن کو سیکھنے کے لیے خصوصی کورسز میں شرکت کی۔ ماجد کے مطابق اُن کے فن پاروں اور کام پر عسیر کے ماحول ، سرزمین ، میدان ، وادیوں ، گھروں اور ثقافتی اور فنی ورثے کا نمایاں اثر نظر آتا ہے۔

ماجد نے بتایا کہ انہوں نے حقیقت سے قریب رہتے ہوئے نقوش کے تجریدی فن کو پیش کرنے کی کوشش کی۔ اس سلسلے میں انہوں نے اپنے فن پاروں اور کام میں صوبے کی پہچان یعنی "القط العسیری" سے بھی استفادہ کیا۔

القط العسیری (جسے نقاش پینٹنگ یا مجلس پینٹنگ بھی کہا جاتا ہے) عربی فن کا ایک انداز ہے۔ یہ عام طور پر گھر کے داخلی راستے پر خواتین بناتی ہیں۔ یہ انداز صوبہ عسیر میں گھروں کے سامنے والے حصے پر عام طور پر دیواری فن پارے ہوتے ہیں۔

ماجد نے بتایا کہ اندرون و بیرون ملک متعدد نمائشوں میں اپنے فن پارے پیش کر چکے ہیں۔ وہ متعدد کورس بھی منعقد کر چکے ہیں۔ ماجد کے مطابق وہ معاصر اسلوب کے ساتھ 'القط العسیری' کی خصوصی نمائش کے لیے تیاری کر رہے ہیں۔ انہوں نے مختلف حجموں اور پیمائش کے ساتھ القط العسیری کا استعمال کرتے ہوئے مجسمہ سازی کی ہے۔ واضح رہے کہ القط العسیری صوبے کا وہ ثقافتی ورثہ ہے جس کو اقوام متحدہ کی ذیلی تنظیم یونیسکو نے اپنی فہرست میں شامل کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں