سوڈان میں مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن پرسنٹرل ریزرو پولیس پرامریکا کی پابندیاں عاید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکا نے سوڈان کی سنٹرل ریزرو پولیس پر پُرامن احتجاجی مظاہرین کے خلاف خونیں کریک ڈاؤن کے ردعمل میں پابندیاں عاید کردی ہیں۔اس نے پولیس فورس پر الزام عاید کیا ہے کہ اس نے گذشتہ سال اکتوبرمیں برپا شدہ فوجی بغاوت کے ردعمل میں احتجاج کرنے والے پُرامن مظاہرین کے خلاف ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال کیاتھا۔

امریکی محکمہ خزانہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سوڈان کی پولیس فورس کے ایک ڈویژن کے طورپرسنٹرل ریزرو پولیس خرطوم میں پرامن مظاہروں کے خلاف سوڈانی سکیورٹی فورسز کے ’’پُرتشدد ردعمل‘‘میں سب سے آگے رہی ہے۔

اس نے سوڈانی پولیس پرجنوری میں مظاہرین پر براہ راست گولہ بارود چلانے کا الزام عاید کیا تھا اور مزید کہا تھا کہ متعدد مظاہرین کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔محکمہ خزانہ نے بتایا کہ فورس نے بلوا پولیس اور عام پولیس کے ساتھ مل کر جائے وقوعہ سے فرارہونے کی کوشش کرنے والے مظاہرین کا پیچھا کیاتھا،ان میں سے بعض کو گرفتار کرلیا تھا،انھیں مارا پیٹا تھا،مظاہرے میں شریک ایک شخص کو جان لیوا گولیاں ماردیں تھیں اوردوسروں کو فائرنگ سے زخمی کردیا تھا۔

محکمہ خزانہ کے انڈر سیکرٹری برائے دہشت گردی اور مالیاتی انٹیلی جنس برائن نیلسن نے بیان میں کہا کہ 25 اکتوبر2021ء کوفوجی قبضے کے بعد سے سوڈان کی سنٹرل ریزرو پولیس نے شہری کارکنوں اور مظاہرین کو خاموش کرانے کے لیے ضرورت سے زیادہ طاقت اور تشدد کا استعمال کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’’ہم سوڈانی شہریوں کو قتل، ہراساں اور خوفزدہ کرنے پر سوڈان کی سکیورٹی سروسز کی مذمت کرتے ہیں‘‘۔

دوسری جانب سوڈان کی فوجی قیادت نے کہا ہے کہ لوگوں کو پرامن احتجاج کی اجازت ہے اور احتجاجی مظاہروں میں ہلاکتوں کی تحقیقات کی جائیں گی۔واضح رہے کہ سوڈان میں گذشتہ کئی مہینوں سے مزاحمتی کمیٹیوں کے زیراہتمام فوجی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری ہیں۔

امریکا،اقوام متحدہ اور متعدد ممالک سوڈانی مظاہرین کے خلاف سکیورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن پرتنقید کر رہے ہیں۔اس پُرتشدد کریک ڈاؤن میں اکتوبر سے اب تک 88 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

واضح رہے کہ فوجی جرنیلوں کی عبوری حکومت کے خلاف بغاوت اور اقتدار پر مکمل قبضے کے بعد مغربی ممالک اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں نے سوڈان کی اربوں ڈالر کی غیرملکی امداد معطل کردی تھی اورفوجی کمانڈروں نے ابھی تک معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے نئے وزیراعظم کا تقررنہیں کیا ہے۔

سوڈانی فوج کا کہنا ہے کہ سیاسی محاذآرائی اوراکھاڑ پچھاڑن کے بعد بغاوت ایک ضروری اصلاحی اقدام تھا اور اس نے اتفاق رائے یا انتخابات کے ذریعے مقررکردہ حکومت کو اقتدار سونپنے کا وعدہ کیا ہے جبکہ مظاہرین سیاست سے فوج کے کردار کا فوری خاتمہ چاہتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں