روس اور یوکرین

روسی فوج کی بمباری سے ماریوپول کا ’کچھ نہیں بچا‘:یوکرینی صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

یوکرینی صدر نے کہا ہے کہ روسی فوج کی کئی ہفتوں سے جاری بمباری کے بعد ماریوپول شہر کا’’کچھ نہیں بچا‘‘ ہے جبکہ یوکرین نے ماسکو سے اپیل کی ہے کہ وہ اس شہر سے کم سے کم ان ایک لاکھ افراد کے انخلا کی اجازت دے جو یہاں سے محفوظ مقامات کی جانب جانا چاہتے ہیں۔

یوکرین نے روسی فوج کے محاصرے کا شکار جنوبی بندرگاہ شہر کی صورت حال کے بارے میں سخت وارننگ جاری کی ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ اس شہر کے مکین خوراک، ادویہ، بجلی یا پانی کی ترسیل سے محروم ہوچکے ہیں۔

حکام نے بتایا کہ روسی فوج کے زیرقبضہ ایک اور جنوبی شہر خیرسن میں بھی تین لاکھ شہریوں کی خوراک ختم ہو رہی ہے۔ایک بین الاقوامی امدادی تنظیم کے عہدہ دار کے مطابق یوکرین کا انسانی نظام ٹوٹ رہاہے۔

ولودی میرزیلنسکی نے منگل کے روز اطالوی پارلیمان سے ویڈیو خطاب میں کہا کہ ’’ماریوپول میں کچھ بھی نہیں بچا ہے۔وہاں صرف کھنڈرات ہیں حالانکہ امن کے وقت اس شہرکی آبادی چار لاکھ تھی‘‘۔

جب وہ خطاب کر رہے تھے تو شہری کونسل نے یہ اطلاع دی کہ روسی فورسز نے منگل کے روزماریوپول پردو بڑے بم گرائے ہیں لیکن اس نے ہلاکتوں یا نقصان کی کوئی تفصیل نہیں بتائی۔روس نے فوری طور پراس حملے پرکوئی تبصرہ نہیں کیا۔

کونسل کا کہنا تھا کہ ایک بار پھر یہ واضح ہوگیا ہے کہ قابضین ماریوپول شہر میں دلچسپی نہیں رکھتے ہیں بلکہ وہ اسے زمین کے ساتھ ہموارکرنا چاہتے ہیں اوراسے مردہ زمین کی راکھ بنانا چاہتے ہیں۔

روس نے شہریوں کو نشانہ بنانے کی تردید کی ہے اوریوکرین کو ماریوپول سے شہریوں کے انخلا کامحفوظ راستہ دینے میں ناکامی کا موردالزام ٹھہرایا ہے۔یوکرین نے شہریوں کو بہ حفاظت جانے کی اجازت دینے کی شرط کے طور پرپیرکو صبح تک شہر کے ہتھیار ڈالنے کے الٹی میٹم کی خلاف ورزی کی۔

یوکرین کی نائب وزیراعظم ایرینا ویرشچک نے سرکاری ٹیلی ویژن پر کہا کہ ہم شہریوں کے لیے انسانی راہداری کھولنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔انھوں نے مزید کہا:’’کم سے کم ایک لاکھ لوگ ماریوپول چھوڑنا چاہتے ہیں لیکن ان کا فی الوقت انخلا ممکن نہیں‘‘۔

ویرشچک نے کہا کہ جب تک محفوظ راہداری نہیں بنائی جاتی اور بسوں کوخالی کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی، انھیں باحفاظت شہر سے باہرمحفوظ مقام تک پہنچنے کے لیے 10 سے 20 کلومیٹر(چھے سے 12 میل) تک پیدل چلنا پڑے گا- اگر جنگ بندی نہ ہوئی تو یہ مصائب ومشکلات سے لبریزسفر ہوگا۔

انھوں نے اور یوکرین کے دیگر حکام نے بتایا کہ روسی افواج اپنے زیرقبضہ شہرخیرسن میں عام شہریوں تک انسانی رسد پہنچنے سے روک رہی ہیں۔انھوں نے کہا کہ روسی فوج کی ناکا بندی کی وجہ سے خیرسن کے تین لاکھ شہریوں کو انسانی تباہی کا سامنا ہے۔

یوکرینی وزارت خارجہ کے ترجمان اولیگ نکولینکو نے ٹویٹرپرکہا کہ شہر میں خوراک اورطبی سامان قریباً ختم ہو چکا ہے جبکہ روس نے شہریوں کو نکالنے کے لیے انسانی راہداریاں کھولنے سے انکار کردیا ہے۔روس نے خیرسن شہرکی صورت حال پر فوری طور پرکوئی تبصرہ نہیں کیا۔

انسانی نظام 'ٹوٹ گیا'

بین الاقوامی امدادی ایجنسی مرسی کور کے انسانی ردعمل کے مشیراسٹیو گورڈن نے یوکرین میں رسدی زنجیر(سپلائی چین) کی کمزوری پرتشویش کا اظہارکیا ہے۔

یوکرین میں موجود گورڈن نے مرسی کور کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ انتہائی شدید لڑائی کا شکارعلاقوں کی زیادہ ترمیونسپلٹیوں میں خوراک جیسی ضروری اشیاء کی مقدار3 سے4 دن سے زیادہ نہیں ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اس وقت انسانی نظام مکمل طور پر ٹوٹ چکا ہے۔

روسی فوج کے محاصرے کے بعد ماریوپول سے صرف چند ہزار شہری فرارہونے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ان میں کئی ایک کاروں کےایک قافلے کی شکل میں گئے ہیں۔گورڈن نے بتایا کہ ان میں سے کچھ لوگوں نے گاڑیوں کی چھت پر سامان باندھا ہوا تھا لیکن بہت سے لوگوں کے پاس کچھ نہیں تھااور انھیں سب کچھ پیچھے چھوڑنا پڑا ہے۔

واضح رہے کہ روس یوکرین میں اپنے اقدامات کو ملک کوغیرمسلح کرنے اور اسے’’نازیوں‘‘سے بچانے کے لیے’’خصوصی فوجی آپریشن‘‘ قراردیتا ہے جبکہ مغرب اسے بلااشتعال جنگ کا جھوٹا بہانہ قراردیتا ہے۔

روسی فوج کا ماریوپول پر قبضہ ہوجاتا ہے تو اس طرح اس کواس شہر سے جزیرہ نما کریمیا تک زمینی راہداری حاصل کرنے میں مدد ملے گی ۔یوکرین کی اس ریاست کا ماسکو نے 2014 میں الحاق کر لیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں