بین الاقوامی کانفرنس میں سعودی عرب کی “Desalination” ٹکنالوجی زیر بحث

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب میں جاری International Conference on Saline Water Mining آج اختتام پذیر ہو رہی ہے۔ اس تین روزہ کانفرنس کا آغاز 21 مارچ کو سعودی عرب کے شہر الخبر میں ہوا تھا۔ کانفرنس کا مقصد پانی سے نمک ختم کرنے کے عمل کے نتیجے میں پیدا ہونے والے کھارے پانی سے دھات نکالنے کے سلسلے میں ماہرانہ معلومات اور جدید اختراعی ٹکنالوجیز کا تبادلہ کرنا ہے۔ سعودی عرب کے ماحول ، پانی اور زراعت کے وزیر انجینئر عبدالرحمن الفضلی کی سرپرستی میں ہونے والی اس کانفرنس میں دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے 120 سے زیادہ محقق ، سائنس دان اور ماہرین شریک ہیں۔

کانفرنس کے شرکاء ایک نئے صنعتی رجحان کو جنم دینے کے لیے اکٹھا ہوئے ہیں۔ اس طرح اصل لاگت، توانائی کے استعمال، فی کیوبک میٹر پیداوار کے اخراجات اور کاربن کے اخراج میں کمی لائی جا سکے گی۔ مزید یہ کہ ایسی اقتصادی عمل پذیری کو بھی یقینی بنایا جا سکے گا جو مملکت کے پروگرام ویژن 2030 کے ساتھ مطابقت رکھتی ہو۔

کانفرنس کے دوران شرکاء کو سعودی عرب میں پانی سے نمک ختم کرنے کی صنعت میں استعمال ہونے والی جدید ترین ٹکنالوجیز اور اس صنعت کی ترقی کے ارتقا سے بھی متعارف کرایا جا رہا ہے۔

کانفرنس کی میزبانی Saline Water Conversion Corporation کے پاس ہے۔ کانفرنس میں پیش کیے جانے والے دو بہترین تحقیقی مقالوں کو قیمتی انعامات سے نوازا جائے گا۔ مقالے تحریر کرنے والے دونوں محققین کو اسکالر شپ بھی دی جائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں