روس اور یوکرین

جوہری ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق روسی بیان نہایت خطر ناک ہے : پینٹاگان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی وزارت دفاع پینٹاگان کے ایک سینئر ذمے دار کے مطابق امریکا روسی افواج کی نگرانی کر رہی ہے تا کہ ماسکو کی جانب سے حیاتیاتی یا کیمیائی مواد یوکرین منتقل کرنے کا انکشاف ہو سکے۔

مذکورہ ذمے دار نے منگل کے روز یوکرین کی صورت حال سے متعلق بریفنگ میں صحافیوں کو بتایا کہ اس چیز پر نظر رکھی جا رہی ہے کہ آیا روس کی جانب سے گولہ بارود مثلا میزائل و راکٹ میں کیمیائی یا حیاتیاتی مواد رکھا جا رہا ہے۔ اسی طرح روس کی جوہری نقل و حرکت کی بھی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔

امریکی ذمے دار کا کہنا ہے کہ جوہری ہتھیار کے استعمال کے حوالے سے روسی بیانات نہایت خطرناک ہیں۔

یوکرین کے شہر ماریوپول کے حوالے سے امریکی ذمے دار نے بتایا کہ ماریوپول کو بم باری کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ روسی فوجی شہر کے اندر یوکرینی فوج کے ساتھ لڑائی میں مصروف ہیں۔ تاہم یوکرین کی جانب سے شہر کے دفاع کے واسطے شدید مزاحمت ہو رہی ہے۔ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران میں بحیرہ آزوف میں 5 سے 7 بحری جہازوں نے ماریوپول کے اطراف بم باری کی۔

پینٹاگان کے سینئر ذمے دار نے بتایا کہ امریکیوں کے اندازوں کے مطابق روسی فوج کو غذائی اشیاء اور توانائی کی قلت کا سامنا ہے۔ بعض روسی فوجی شدید سردی کا شکار ہو کر لڑائی کے میدان سے باہر آ گئے۔

امریکی ذمے دار کے بیان کے مطابق روس نے اب تک یوکرین پر 1100 سے زیادہ میزائل داغے ہیں۔ گذشتہ 10 روز کے دوران میں شہریوں اور رہائشی عمارتوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

یہ کارروائی جنگی جرائم تک پہنچ سکتی ہے۔

اس سے قبل امریکی صدر جو بائیڈن یہ کہہ چکے ہیں کہ روس کا یہ جھوٹا الزام کہ یوکرین کے پاس حیاتیاتی اور کیمیائی ہتھیار ہیں ،،، روسی صدر ولادی میر پوتین کی اس نیت کو عیاں کرتا ہے کہ وہ خود یوکرین کے خلاف جنگ میں ان ہتھیاروں کا استعمال کرنے کا سوچ رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں