سعودی سرمایہ کاری فنڈ کے مینامیں کاربن مارکیٹ کے قیام کے لیے پانچ اداروں سے سمجھوتے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب کے پبلک انویسٹمنٹ فنڈ (پی آئی ایف) نے اعلان کیا ہے کہ پانچ سرکردہ سعودی کاروباری اداروں نے مشرق اوسط اور شمالی افریقا میں علاقائی رضاکارانہ کاربن مارکیٹ (وی سی ایم) کے پہلے ممکنہ شراکت دار بننے کے لیے مفاہمت کی یادداشتوں پر دست خط کیے ہیں۔

سعودی سرمایہ کاری فنڈ کے ساتھ دست خط کرنے والے اداروں میں سعودی آرامکو، سعودیہ ایئرلائنز، اے سی ڈبلیو اے پاور، کان کنی اور دھاتوں کی کمپنی معدن اور اینووا (نیوم کی ذیلی کمپنی) شامل ہیں۔ای سی ایم کا مقصد کاربن کریڈٹ سرمایہ کاروں اور اداروں کی طلب کے مطابق مہیا کرنا ہے جو اپنے پیداکردہ کاربن کے اخراج کو ختم یاکم کرنا چاہتے ہیں۔

کاربن کریڈٹ گرین ہاؤس گیسوں یا کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے لیے استعمال کیا جانے والا طریق کار ہے۔ وہ کریڈٹ کے مالک کو ایک خاص مقدار میں اخراج کرنے کے قابل بنانے کے لیے اجازت نامے کے طور پر کام کرتے ہیں۔ایک کریڈٹ ایک ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ یا دیگر گرین ہاؤس گیسوں میں اس کے مساوی کے اخراج کی اجازت دیتا ہے۔

کاربن کریڈٹ ایک ’’کیپ اینڈ ٹریڈ‘‘ماڈل کے طور پرکام کرتا ہے - ایک سرکاری ریگولیٹری پروگرام کے لیے ایک مشترکہ اصطلاح ہے جو اخراج کی کل سطح کو محدود کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔لہٰذا جب کمپنیاں آلودگی پھیلاتی ہیں توانھیں کریڈٹ دیا جاتا ہے، یہ انھیں آلودگی جاری رکھنے کی اجازت دیتا ہے لیکن صرف ایک خاص حد تک۔ اس کے بعد وقتاً فوقتاً اس حد کوکم کیا جاتا ہے اور اس دوران میں کمپنی کسی بھی غیر ضروری کریڈٹ کو کسی دوسری کمپنی کو فروخت کرسکتی ہے جسے ان کی ضرورت ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ معاہدوں کے حصے کے طور پر شراکت داروں کا مقصد کاربن کریڈٹ کی فراہمی، خریداری اور تجارت کے ذریعے وی سی ایم کی ترقی میں سعودی سرمایہ کاری فنڈ کی مدد کرنا ہوگا۔کاربن کریڈٹ مارکیٹ کے قیام کی 2023ء میں قیام کی توقع ہے۔2022ء کی چوتھی سہ ماہی میں متوقع نیلامی کے ابتدائی دور سے قبل آیندہ مہینوں میں اضافی شراکت داروں کااعلان کیا جائے گا۔

سعودی سرمایہ کاری فنڈ کے گورنر یاسرالرمیان کا کہنا ہے کہ سعودی کاروباری اداروں کی حمایت اس مارکیٹ کی دلچسپ صلاحیت کا ایک مضبوط مظاہرہ ہے۔ہم اپنے شراکت داروں کا رضاکارانہ کاربن مارکیٹ سے وابستگی پر شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں جو مینا خطے میں اپنی نوعیت کا پہلا تجربہ ہے۔

یاسرالرمیان نے مزیدکہا کہ پی آئی ایف موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے اور2060ء تک خالص صفر کاربن کے اخراج کے حصول کے لیے درکار سرمایہ کاری اور اختراع کو آگے بڑھانے کے ذریعے سعودی عرب کی کوششوں میں معاون ہے۔

یہ اقدام ستمبر2021 میں پی آئی ایف اور تداول کی جانب سے وی سی ایم اقدام کے اعلان کے بعد کیاگیا ہے۔تب نائب وزیراعظم ، پی آئی ایف کے چیئرمین اورمملکت کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے شروع کیے گئے متعدد اقدامات کے حصے کے طور پرماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کرنے میں سعودی عرب کے کردار کو اجاگر کیا تھا۔

رواں سال کے اوائل میں سعودی گرین اقدام فورم میں ولی عہد نے کاربن سرکلراکانومی اپروچ کے ذریعے 2060 تک خالص صفر اخراج حاصل کرنے کے ہدف کا بھی اعلان کیا تھا۔یہ سعودی معیشت کو متنوع بنانے کے ویژن 2030ء کے تحت ترقیاتی منصوبوں کے مطابق ہے۔

وژن 2030 کے مطابق اس طرح کے اقدامات مملکت کی سبز معیشت کی ترقی، مزید ملازمتیں پیدا کرنے اور نجی شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے نئی راہیں کھولنے میں معاون ثابت ہوں گے۔

پی آئی ایف نے اپنا گرین فنانس فریم ورک بھی شائع کیا ہے۔اس کے ذریعے اس نے ماحولیاتی، سماجی اور کارپوریٹ گورننس (ای ایس جی) میں قائدانہ کردار کے لیے متعدد اقدامات اور اہداف متعین کیے ہیں۔ان میں وی سی ایم کا قیام بھی شامل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں