طالبان کا افغان گرلزاسکولوں کوکھولنے کے چند گھنٹے بعد دوبارہ بند کرنے کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

افغانستان میں طالبان نے بدھ کو سیکنڈری گرلزاسکولوں کو دوبارہ کھولنے کے چند گھنٹے کے بعد ہی بدھ کے روزدوبارہ بند کرنے کا حکم دے دیا ہے۔طالبان کے ایک عہدہ دارنے اس فیصلے کی تصدیق کی ہے لیکن اس پالیسی میں عاجلانہ تبدیلی سے الجھن پیدا ہوگئی ہے۔

طالبان کے ترجمان انعام اللہ سمنگانی سے جب ان خبروں کی تصدیق کرنے کو کہا گیاکہ اسکولوں سے لڑکیوں کو گھر بھیجنے کا حکم دیا گیا ہے تو انھوں نے کہا کہ ’’ہاں، یہ درست ہے‘‘۔

فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی کی ایک ٹیم دارالحکومت کابل میں واقع زرغونا ہائی اسکول میں فلم بندی کررہی تھی کہ اس دوران میں ایک معلمہ اندرداخل ہوئیں اورانھوں نے سب کو گھروں کو لوٹنے کا حکم دے دیا۔

طالبان نے گذشتہ سال اگست میں افغانستان میں اقتدار پر قابض ہونے کے بعد طالبات کے اسکولوں کو بند کرنے کا حکم دیا تھا۔اس کے بعد پہلی مرتبہ کلاسوں میں واپس آنے والی طالبات کو سخت مایوسی ہوئی ہے اور وہ آنسوؤں سے اپنے بستے سمیٹ کرگھروں کو روانہ ہوگئی ہیں۔

عالمی برادری طالبان کی نئی حکومت پر’’تعلیم سب کے لیے‘‘ کے حق پرزور دے رہی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ طالبان کے نظام کو اسی صورت میں تسلیم کرے گی اور امداد دے گی جب وہ بچیوں کوبالخصوص اسکول جانے کا حق دیں گے اور ان کی تعلیم اورملازمتوں پر کسی قسم کی قدغن نہیں لگائیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں