روس اور یوکرین

عالمی پابندیوں کے نتیجے میں روس کے دسیوں ہوائی جہاز بیرون ملک پھنس گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یوکرین میں فوجی آپریشن کے بعد روس پر مغربی پابندیوں کے اثرات سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔

یوکرین میں روسی فوجی آپریشن کو پہلا مہینہ ختم ہونے کو ہے۔ دوسری طرف روس کے وزیر ٹرانسپورٹ ویتالی سیویلیف نے اعلان کیا کہ روس کے 78 طیارے بیرون ملک ضبط کر لیے گئے ہیں۔

روسی انٹرفیکس نیوز ایجنسی کی طرف سے منگل کو جاری کردہ ایک بیان میں انہوں نے مزید کہا کہ پابندیوں کے باعث روس کو طیاروں، اسپیئر پارٹس اور سروسز کی فراہمی منقطع کر دی ہے۔ یہ کہ روسی ایئر لائنز کے پاس بیرون ملک سے 515 طیارے لیز پر ہیں۔

سیویلیف نے وضاحت کی کہ ماسکو نے 78 طیارے کھو دیے۔ یہ طیارے بیرون ملک ضبط کر لیے گئے ہیں اور روس کو واپس نہیں کیے جائیں گے۔

صورتحال کو بچانے کے لیے حکومتی مداخلت

روس نے ایک قانون نافذ کیا ہے جس کے تحت روسی ایئر لائنز کو غیر ملکی کمپنیوں سے لیز پر لیے گئے طیاروں کو روسی ریکارڈ میں درج کرنے کی اجازت دی گئی ہے لیکن ایئر لائنز بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ اپنے تعلقات کو خطرے میں ڈالنے کے خوف سے اس حق کو استعمال کرنے سے گریزاں ہیں۔

جب کہ ماسکو نے اعلان کیا کہ جب پابندیاں لگائی گئیں تو اس کے پاس 1,367 طیارے تھے، اور ان میں سے تقریباً 800 اب ملکی ریکارڈ میں درج ہیں۔ اس نے یہ نہیں بتایا کہ غیر ملکی کمپنیوں سے لیز پر لیے گئے کتنے طیارے درج تھے۔

دنیا میں سب سے زیادہ پابندیوں کا سامنا کرنے والا ملک

روس نے عالمی پابندیوں کے باب میں دو ہفتوں سے بھی کم عرصے میں ایران اور شمالی کوریا کو پیچھے چھوڑ دیا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتین کی جانب سے گذشتہ ماہ یوکرین کی سرزمین پر شروع کیے گئے فوجی آپریشن کے بعد دنیا کا سب سے زیادہ پابندیوں کا سامنا کرنے والا ملک بن گیا۔

بلومبرگ ایجنسی کے مطابق ماسکو پر لگائی جانے والی پابندیوں کی کل تعداد 5,530 سے زیادہ ہوگئی ہے، جو تہران سے زیادہ ہے، جس پر ایک دہائی کے دوران 3,616 جرمانے عائد کیے، زیادہ تر اس کے جوہری پروگرام اور دہشت گردی کی حمایت کی وجہ سے عاید کیے گئے۔

گذشتہ دنوں کے دوران سوئٹزرلینڈ نے تقریباً 568 جرمانے عائد کیے، یورپی یونین نے 518 اور فرانس نے 512 جرمانے عائد کیے۔ اس کے بعد برطانیہ اور امریکا نے تقریباً 243 جرمانے عائد کیے ہیں۔

بہت سے ممالک اب بھی روسیوں کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر نئی پابندیوں کا اعلان کر رہے ہیں۔ گذشتہ ہفتے کریملن کو یہ تسلیم کرنے پر مجبور کیا کہ یہ پابندیاں سخت اور تکلیف دہ ہیں، لیکن ساتھ ہی انہوں نے زور دیا کہ ان کا ملک جواب دے گا اور ان سے نمٹنے کے طریقے تلاش کرے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں