روس اور یوکرین

یوکرین کی چینی ڈرون کمپنی سے روس کو ڈرون نہ دینے کی اپیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یوکرین نے بغیر پائلٹ کے فضائی گاڑیاں (ڈرون) بنانے والی چینی کمپنی سے اپیل کی ہے کہ وہ روسی فوج کے میزائل حملوں میں ان کے استعمال پر پابندی عائد کرے۔

یوکرین کے نائب وزیر اعظم میخائیلو فیڈرو کی DJI ٹیکنالوجی سے اپیل چینی کمپنیوں کے لیے یوکرین پر تناؤ کو نمایاں کرتی ہے۔

DJI کو لکھے گئے خط میں فیڈرونے لکھا کہ روسی افواج اپنے میزائلوں کی رہنمائی کے لیے DJI مصنوعات کا استعمال کرتی ہیں۔

یوکرینیوں کو مارنے والی اپنی مصنوعات پر پابندی لگائیں

انہوں نے چینی کمپنی سے یوکرین میں ان ڈرونز کو غیر فعال کرنے کی اپیل کی جو روس، شام یا لبنان میں خریدے اور چالو کیے گئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپنی مصنوعات پر پابندی لگائیں جو روس کو یوکرائنیوں کو مارنے میں مدد کرتی ہیں۔

DJI نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر ایک پیغام میں جواب دیا کہ وہ ذاتی ڈرونز کو غیر فعال نہیں کر سکتا لیکن جیوفینس یا سافٹ ویئر کی پابندیاں لگا سکتا ہے جو عام طور پر ڈرونز کو ہوائی اڈوں یا دیگر حساس علاقوں سے دور رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

کمپنی نے کہا کہ اس سے یوکرین کے تمام DJI ڈرون متاثر ہوں گے۔

درست مقامات کو نشانہ بنائیں

ہانگ کانگ کے قریب شینزین میں ہیڈ کوارٹر رکھنے والی یہ کمپنی سویلین ڈرون بنانے والی بڑی کمپنیوں میں سے ایک ہے جسے فوٹوگرافرز، کمپنیاں اور شوقین استعمال کرتے ہیں۔ یہ ٹکنالوجی میں بھی بہت آگے ہے جو سیٹلائٹ نیویگیشن کا استعمال کرتے ہوئے ڈرون کو درست مقامات پر رہ نمائی کرتی ہے۔

فیڈرو نے کہا کہ روسی حملہ آوروں نے شام میں حاصل کردہ DJI کی ایروسکوپ ٹیکنالوجی کی کاپی استعمال کی۔

جبکہ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ ایک حفاظتی خصوصیت ہے جو اس کے تمام حالیہ ڈرونز میں ہے جو ان کے مقام کو نشر کرتا ہے اور تصادم کو روکنے کے لیے 50 کلومیٹر (35 میل) دور تک دوسرے ڈرون کو ٹریک کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں