یوکرین میں مراکزِصحت پرروسی فوج کے 64حملے،ایک کروڑ80 لاکھ افرادمتاثر:ڈبلیو ایچ او

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عالمی ادارہ صحت(ڈبلیو ایچ او) نے انکشاف کیا ہے کہ روس کی یوکرین پر فوجی چڑھائی کے دوران میں 22مارچ تک مراکزِصحت پر 64 حملے کیے گئے ہیں۔اس طرح 25 روزہ جنگ کے دوران میں روزانہ دوسے تین حملے کیے گئے ہیں۔عالمی ادارے نے نظامِ صحت پران حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

ڈبلیوایچ او کے یوکرین میں نمایندے ڈاکٹرجرنو ہیبشٹ نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’تحفظِ صحت کے نظام پرحملے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں لیکن یہ پریشان کن حد تک جنگ کا حربہ ہیں۔ان سے اہم ڈھانچا تباہ ہوجاتا ہے لیکن بدترین امریہ ہے کہ ان سے امید دم توڑ دیتی ہے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ’’ان حملوں نے پہلے سے لاچارلوگوں کو نگہداشت سے محروم کردیا ہے اور یہی اکثر زندگی اور موت میں فرق ہوتا ہے۔ہیلتھ کیئر کوکبھی ہدف نہیں بنایا جانا چاہیے‘‘۔

یوکرین میں روس کی جنگ کوایک ماہ ہونے کو ہے۔اس دوران میں قریباً چالیس لاکھ افراد اپنا گھربارچھوڑ کر پڑوسی ممالک میں پناہ کے لیے جاچکے ہیں۔اس کا یہ مطلب ہے کہ ہرچار میں سے ایک یوکرینی کو جبری طور پر دربدر ہونا پڑا ہے۔اس کے نتیجے میں غیرمتعدی امراض کا شکار افراد بھی گوناگوں مسائل کا شکارہوچکے ہیں۔

پناہ گزینوں کی عالمی تنظیم کے مطابق یوکرین میں دربدر ہونے والے ہرتین میں سےایک شخص کسی نہ کسی متعدی مرض کا شکار ہے۔بہت سے اسپتال جنگ کے زخمیوں سے بھرچکے ہیں اور بنیادی نظام صحت پر مزید بوجھ پڑا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کاکہنا ہے کہ یوکرین کے قریباً نصف دواخانے بند ہوچکے ہیں اور بہت سے طبّی کارکنان خود دربدرہیں اور وہ کوئی کام نہیں کرسکتے ہیں۔مزیدبرآں قریباً ایک ہزار مراکزصحت مسلح تنازع کے محاذاوّل کےعلاقوں یا محاصرہ زدہ شہروں میں واقع ہیں۔اس وجہ سے ان مراکز صحت تک ادویہ ،طبی ماہرین اورکارکنان کی آزادانہ رسائی ممکن نہیں رہی ہے۔دائمی امراض کا شکار افراد کے لیے مراکز صحت کم وبیش بند ہوچکے ہیں۔

ڈبلیوایچ او نے اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے یوکرین ،پولینڈ اورمالدووا میں بیس سے زیادہ ہنگامی میڈیکل ٹیمیں متعیّن کی ہیں اور وہ ان ملکوں میں زخمیوں اور دائمی مریضوں کے علاج کے لیے کارکنان خصوصی طبی تربیت دے رہی ہیں۔

روس کے حملے کے بعد یوکرینیوں کوکرونا وائرس کی ویکسین لگانے کا عمل بھی رُک چکا ہے۔اس سے پہلے قریباً پچاس ہزار افراد کو روزانہ ویکسین لگائی جارہی تھی۔تاہم 24 فروری سے 15مارچ تک صرف ایک لاکھ 75 ہزار افراد کو ویکسین لگائی جاسکی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں