روس اور یوکرین

روس یوکرین جنگ کا ایک ماہ مکمل ، فریقین کا کتنا نقصان ہوا ہے ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق 24 فروری کو روس کے فوجی آپریشن کے آغاز کے بعد سے اب تک یوکرین میں 1035 شہری ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ 40 لاکھ کے قریب یوکرینیوں نے پڑوسی ممالک راہ فرار اختیار کی۔ اقوام متحدہ کی ذیلی تنظیم یونیسف نے بتایا ہے کہ جنگ شروع ہونے کے بعد یوکرین کے آدھے سے زیادہ بچے بے گھر ہو چکے ہیں۔ تنظیم کے مطابق اب تک 43 لاکھ یوکرینی بچے بے گھر ہو چکے ہیں۔ ان میں 18 لاکھ بچے دیگر ممالک ہجرت پر مجبور ہو کر پناہ گزین بن گئے جب کہ 25 لاکھ بچے یوکرین کے اندر موجود ہیں۔

یونیسف نے بتایا کہ جنگ میں 81 بچے ہلاک اور 108 زخمی ہو چکے ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ یوکرین میں 4.5 لاکھ سے زیادہ بچوں کو غذائی سہارے کی ضرورت ہے۔ ان بچوں کی عمر چھ سے 23 ماہ کے درمیان ہے۔

دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلینکن کا کہنا ہے کہ روسی صدر ولادی میر پوتین کی جانب سے یوکرین پر مسلط جنگ کے نتیجے میں دس لاکھ سے زیادہ افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا روسی جارحیت کے سبب فرار ہونے والے یوکرینیوں کا خیر مقدم کرتا ہے۔

وائٹ ہاؤس یہ اعلان کر چکا ہے کہ وہ یوکرین سے فرار ہونے والے ایک لاکھ پناہ گزینوں کا استقبال کرے گا۔ امریکا نے جنگ کے متاثرہ افراد کے لیے ایک ارب ڈالر کی اضافی انسانی امداد بھی پیش کی ہے۔

روس اور یوکرین کی جنگ پانچویں ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔ واضح رہے کہ 24 فروری کو یوکرین میں شروع ہونے والا روس کا فوجی آپریشن دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ میں ہونے والا سب سے بڑا حملہ ہے۔

روسی وزارت دفاع کے ترجمان جنرل ایگور کوناشنکوف نے منگل کے روز بتایا کہ روسی مسلح افواج یوکرین کی فوج کے 236 ڈرون طیارے ، 185 میزائل نظام ، 1547 فوجی ٹینک اور 137 عسکری تنصیبات تباہ کر چکی ہیں۔

اس کے مقابل یوکرین کے صدراتی مشیر اولیکسی ارستووچ نے اخباری بیان میں بتایا کہ یوکرین کی فوج نے روس کے 509 فوجی ٹینک ، 1556 بکتر بند گاڑیاں ، 99 طیارے اور 123 ہیلی کاپٹر تباہ کر دیے۔

یوکرین کی وزارت خارجہ نے ہفتے کے روز ٹویٹر پر بتایا کہ جنگ کے آغاز کے بعد سے 14400 روسی فوجی مارے جا چکے ہیں۔

انگریزی ویب سائٹ "فارن افیئرز" کے مطابق ماسکو پر عائد پابندیوں کے نتیجے میں دنیا کی 11 ویں بڑی معیشت روس کا بڑی حد تک عالمی معیشت سے رابطہ منقطع ہو چکا ہے۔ جنوری کے آغاز سے اب تک روسی کرنسی روبل ایک تہائی سے زیادہ قدر کھو چکی ہے۔ ماہرین معیشت کا اندازہ ہے کہ رواں سال روس کی مجموعی مقامی پیداوار میں 9-15٪ تک کمی واقع ہو گی۔

دوسری جانب یوکرین کی معیشت مکمل طور پر مفلوج ہو چکی ہے۔ ملک میں معیشت سے متعلق زیادہ تر سرگرمیاں موقوف ہو چکی ہیں۔ جنگ کے سبب یوکرین کا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے۔ اس میں سڑکیں ، پُل ، بندرگاہیں اور ہوائی اڈے شامل ہیں۔ یوکرین کے اندازے کے مطابق روس کی جانب سے فوجی آپریشن شروع ہونے کے بعد اب تک ملک کے انفرا اسٹرکچر کو 565 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں