امریکا کی سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات حوثیوں کے حملوں کی شدید مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جمعہ کو امریکی محکمہ خارجہ نے سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات اور انفراسٹرکچر پر حوثیوں کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ سعودی عرب پر حوثیوں کے یہ حملے ناقابل قبول ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ نے العربیہ کو بتایا کہ حوثیوں کا حملہ سعودی عرب میں شہریوں اور ہزاروں امریکیوں پر حملہ تھا۔

انہوں نے کہا کہ امریکی انتظامیہ یمن میں جنگ کے خاتمے کے لیے اقوام متحدہ میں قرارداد کے مسودے پر کام کر رہی ہے۔

قبل ازیں عرب اتحاد بتایا کہ شمالی جدہ میں پٹرولیم مصنوعات کے ڈسٹری بیوشن کے اسٹیشن پر کل 25 مارچ میزائل حملہ کیا گیا۔ صامطہ اسٹیشن پر ہونے والے حملے میں ایک پٹرول اسٹیشن میں معمولی آگ لگی جسے بجھا دیا گیا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ اسی طرح گذشتہ شام پانچ بجے جازان کے علاقے میں واقع "المختارہ" اسٹیشن پر بھی میزائل سے حملہ کیا گیا۔ تاہم ان مجرمانہ حملوں کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ ایک اور حملہ ظہران میں پانی نقصان میں کیا گیا۔

ذریعے نے سعودی عرب کی جانب سے ان تخریب کاری کے حملوں کی شدید مذمت کی جس کا مملکت کے مختلف خطوں میں اہم تنصیبات اور شہری املاک کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ سعودی عرب نے ان حملوں کو بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔

ذریعے نے کہا کہ سعودی عرب نے پہلے کہا تھا کہ وہ ایرانی حمایت یافتہ دہشت گرد حوثی ملیشیا کی جانب سے تیل کی تنصیبات پر مسلسل تخریب کاری کے حملوں کی روشنی میں عالمی منڈیوں میں تیل کی سپلائی میں کسی بھی قسم کی کمی کی ذمہ داری قبول نہیں کرے گا۔ اس واقعے کے بعد عرب اتحاد نے یمن میں حوثی ملیشیا کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں