لڑکیوں کے ہائی اسکولوں کی بندش، امریکا نے طالبان کے ساتھ بات چیت منسوخ کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکا نے افغان طالبان تحریک کے ساتھ مقررہ بات چیت منسوخ کر دی ہے۔ امریکی ذمے داران کے مطابق یہ فیصلہ طالبان کی جانب سے افغانستان میں لڑکیوں کے ہائی (انٹرمیڈیٹ) اسکولوں کی بندش کے یفصلے کے بعد کیا گیا ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان کا کہنا ہے کہ "ہم نے طالبان کی جانب سے افغان خواتین اور لڑکیوں کو انٹرمیڈیٹ اسکولوں میں واپسی کی اجازت نہ دینے کے فیصلے پر اپنی گہری مایوسی کا اظہار کیا ہے ... اس سلسلے میں ہم نے بعض رابطوں کو منسوخ کر دیا ہے۔ ان میں دوحہ فورم کے ضمن میں طے شدہ ملاقاتیں بھی شامل ہیں۔ ہم نے یہ واضح کر دیا ہے کہ طالبان کا فیصلہ ان کے ساتھ ہمارے تعامل میں ممکنہ ٹرننگ پوائنٹ ہو سکتا ہے"۔

طالبان تحریک نے اگست 2021ء میں افغانستان کا اقتدار سنبھالا تھا تاہم ابھی تک اس کی حکومت کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم نہیں کیا گیا ہے۔ تحریک نے رواں ہفتے لڑکیوں کے ہائی اسکولوں کو کھولنے کے چند گھنٹوں بعد ہی دوبارہ بند کر دیا۔

امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان کے مطابق اگر طالبان کی جانب سے کیا گیا فیصلہ جلد واپس نہ لیا گیا تو اس سے افغان عوام ، ملک کی اقتصادی ترقی اور عالمی برادری کے ساتھ تعلقات کی بہتری کی طالبان کی امیدوں کو شدید نقصان پہنچے گا"۔

افغانستان کا ایک سکول ۔ اے پی فائل فوٹو
افغانستان کا ایک سکول ۔ اے پی فائل فوٹو

ترجمان نے کہا کہ "ہم افغان لڑکیوں اور ان کے گھرانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہم طالبان پر زور دیتے ہیں کہ وہ اپنے عوام کے حوالے سے پاسداریوں کو پورا کریں"۔

ادھر عالمی سلامتی کونسل میں متحدہ عرب امارات کی خاتون سفیر لانا نسیبہ کے افغان حکام کے نئے فیصلے کو "ظالمانہ" قرار دیا۔ یہ موقف ایک بیان میں سامنے آیا جس پر دس مالک نے دستخط کیے۔ یہ ممالک امارات، ناروے، البانیا، برازیل، فرانس، گیبون، آئرلینڈ، میکسیکو، برطانیہ اور امریکا ہیں۔ لانا نسیبہ نے زور دیا کہ تعلیم حاصل کرنا تمام بچوں کا عالمی حق ہے اور ان بچوں میں افغانستان کی لڑکیاں بھی شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں