افغانستان وطالبان

افغانستان میں طالبان لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی جاری نہیں رکھ سکتے: ملالہ یوسف زئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان کی نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی کا کا کہنا ہے کہ افغانستان میں طالبان تحریک کا لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے سے روکے رکھنا دشوار ہو گا۔

ملالہ نے یہ بات ہفتے کے روز دوحہ میں ایک کانفرنس سے خطاب میں کہی۔

طالبان نے بدھ کے روز ملک میں لڑکیوں کے ہائی (انٹرمیڈیٹ) اسکولوں کو دوبارہ کھولنے کے چند گھنٹوں بعد ہی ان کی بندش کا حکم جاری کر دیا۔ اس اقدام نے عوامی حلقوں میں افراتفری پیدا کر دی۔

ملالہ یوسف زئی لڑکیوں کی تعلیم کے لیے طویل عرصے سے سرگرم کارکن کے طور پر کام کر ہی ہیں۔

دوحہ فورم کانفرنس میں ملالہ کا کہنا تھا کہ " 1996ء میں طالبان کے لیے لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی عائد کرنا نسبتا آسان تھا تاہم اس مرتبہ یہ بہت مشکل ہے۔ اس لیے کہ خواتین یہ جان چکی ہیں کہ کہ ان کا تعلیم یافتہ ہونا کس قدر اہمیت رکھتا ہے۔ یہ پابندی مستقل نہیں رہ سکتی"۔

دوسری جانب افغان پارلیمنٹ میں خواتین، شہری سماج اور انسانی حقوق سے متعلق کمیٹی کی سابق سربراہ اور دوحہ میں افغان امن مذاکرات میں شامل سابق رکن فوزیہ کوفی کا کہنا ہے کہ "اکیس ویں صدی میں اس دنیا میں کوئی شخص لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے سے کیسے روک سکتا ہے ؟ میں نہیں سمجھتی کہ دنیا کو بالخصوص عالم اسلام کو یہ بات قبول کرنا چاہیے .. لڑکیوں کو تعلیم سے روکنا پوری ایک نسل کی نسل کشی کے مترادف ہے"۔

گذشتہ برس اگست میں افغانستان کے اقتدار پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد طالبان تحریک نے "کرونا" کی وبا کے سبب تمام اسکولوں کو بند کر دیا تھا۔ دو ماہ بعد صرف چھوٹے بچوں اور بچیوں کو دوبارہ پڑھائی شروع کرنے کی اجازت دی گئی۔

عالمی برادری نے تمام افراد کے لیے تعلیم کے حق کو ،،، طالبان کی نئی حکومت کی امداد اور اسے تسلیم کرنے کے حوالے سے مذاکرات میں بنیادی نقطہ قرار دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں