ایس اینڈپی نے سعودی عرب کے قرضوں کی ریٹنگ ’مستحکم‘ سے’مثبت‘ کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عالمی معیشتوں اور کمپنیوں کی درجہ بندی کرنے والی امریکا میں قائم کارپوریشن ایس اورپی (اسٹینڈرڈ اینڈ پُوّر) نے سعودی عرب کی قرضوں کی درجہ بندی کو مستحکم سے مثبت کردیا ہے۔ مملکت کی ریٹنگ میں یہ بہتری عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کی بدولت سے ہوئی ہے۔گذشتہ ہفتے عشرے کے دوران میں تیل کی تجارت 100 ڈالر فی بیرل سے اوپررہی ہے۔

ایس اینڈ پی نے مملکت کے طویل مدتی غیرملکی کرنسی قرضوں کی درجہ بندی کی تصدیق کرتے ہوئے اس کے آؤٹ لک پر نظرثانی کی ہے اور اس کو اے منفی قراردیا ہے جو اس کی ساتویں بلند ترین سطح ہے۔

ایس اینڈ پی نے کہا کہ ’’مثبت نقطہ نظر درمیانی مدت کے دوران میں جی ڈی پی کی نمو اور مالی حرکیات کو بہتر بنانے کی ہماری توقع کی عکاسی کرتا ہے جو کووِڈ-19 کی وبا سے ملک کے اُبھرنے، تیل کے شعبے کے بہتر امکانات اور حکومت کے اصلاحاتی پروگراموں سے وابستہ ہے‘‘۔

سعودی عرب اس سال اپنے فاضل بجٹ کی توقع کررہا ہے اور یوکرین میں روس کی جنگ سے پہلے ہی اس نے یہ پیشین گوئی کی تھی کہ اس کی آمدن میں اضافہ متوقع ہے۔اس کی بڑی وجہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے معیشت میں تنوع لانے کے منصوبے کے باوجود توانائی کے وسائل سے حاصل ہونے والی آمدن اب بھی سعودی معیشت میں برترہے اور اس کے خلیجی ہمسایوں پرحاوی ہے۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کا اندازہ ہے کہ سعودی عرب کو رواں سال اپنے بجٹ میں توازن قائم کرنے کے لیے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 72.40 ڈالرفی بیرل رکھنے کی ضرورت ہوگی جو تیل کی قیمت کی موجودہ سطح سے بہت کم ہے۔

ایس اینڈ پی نے کہا کہ 2020 میں سعودی عرب کو وبا اور تیل کی عالمی قیمتوں اورطلب میں کمی کے دُہرے جھٹکے کا سامنا کرنا پڑا تھا لیکن 2021 کے بعد سے ملک کی معیشت میں تیزی آئی ہے کیونکہ عالمی معیشتیں اس وبا سے نجات پاچکی ہیں اور تیل کی طلب اورقیمتوں میں بہتری آئی ہے۔

مملکت 2022 میں اخراجات بڑھانے کی منصوبہ بندی نہیں کررہی ہے جو گذشتہ برسوں کے مقابلے میں واضح ہے جب تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تھا اور حکومت اخراجات کو کم کرنے کی دوڑ میں مصروف تھی۔

ہمسایہ ملک متحدہ عرب امارات نے رواں سال قریباً 59 ارب درہم (16.1 ارب ڈالر) پراخراجات مستحکم رکھے ہوئے ہے۔

الراجحی کیپٹل کے مطابق 2022ء میں سعودی عرب کا فاضل بجٹ 215 ارب ریال (57.3 ارب ڈالر) متوقع ہے۔اس نے یہ اندازہ تیل کی اوسط قیمت 96 ڈالر فی بیرل اور پیداوارایک کروڑ سات لاکھ بیرل یومیہ کی بنیاد پر لگایا ہے۔یہ رقم اس کی 100 ارب ریال کی پچھلی پیشین گوئی سے دُگنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں