یمن اور حوثی

عرب اتحاد کے صنعا میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر حملے، گولہ بارود کی بڑی مقدار تباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن میں آئینی حکومت کے حامی عرب اتحاد کے اعلان کے مطابق اس کی افواج یمن میں صنعاء اور الحدیدہ میں خطرے کے ذرائع کو فضائی حملوں کا نشانہ بنا رہی ہیں ، مقاصد پورے ہونے تک یہ فوجی کارروائی جاری رہے گی۔ اس آپریشن کا مقصد تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کارروائیوں پر روک لگانا ہے تا کہ توانائی سیکٹر کی سلامتی متاثر نہ ہو۔

ہفتے کی شام کو عرب اتحاد نے صنعا میں حوثیوں کے فوجی مراکز اور اسلحہ کے ذخائر کو نشانہ بنایا۔

عرب اتحاد کی طرف سے ہفتے کے روز تک حوثیوں کو صنعا ہوائی اڈے، الصلیف اور حدیدہ بندرگاہوں کو اسلحہ سے پاک کرنے کی ڈیڈ لائن دی تھی۔ مقررہ مدت ختم ہونے کے بعد یمن میں کئی مقامات پر فضائی حملے کیے گئے۔

اس سے قبل عرب اتحاد نے جمعے کے روز بتایا تھا کہ حوثی ملیشیا کی جانب سے مملکت میں 16 دشمن حملوں کے باوجود وہ تحمل مزاجی کا مظاہرہ کر رہا ہے تا کہ یمن سے متعلق مشاورت کو کامیاب بنایا جا سکے۔

اتحاد کے مطابق سعودی دفاعی افواج نے نجران کی سمت بھیجے گئے دو ڈرون طیارے تباہ کر دیے۔ اتحاد نے بتایا کہ دشمن حملے صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے اور الحدیدہ صوبے سے کیے گئے۔

عرب اتحاد نے اعلان کیا تھا کہ سعودی عرب کے شہر صامطہ میں بجلی کے ایک پاور اسٹیشن پر راکٹ آ کر گرا۔ اس کے نتیجے میں اسٹیشن میں محدود پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

اتحاد نے مزید بتایا کہ مملکت کے جنوبی شہر ظہران میں نیشن واٹر کمپنی کے ٹینکوں کو بھی دشمن حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں بعض شہریوں کی گاڑیوں اور گھروں کو نقصان پہنچا۔

عرب اتحاد نے خبردار کیا ہے کہ دہشت گرد حوثی ملیشیا 29 مارچ کو سعودی دارالحکومت ریاض میں مقررہ مشاورت کو ناکام بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ مشاورت یمن میں تنازع میں شامل فریقوں کے درمیان ہو گی۔

عرب اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے اور دے کر کہا کہ حوثیوں کی جانب سے دشمن کارروائیوں کا جاری رہنا علاقائی اور بین الاقوامی امن کے لیے خطرہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں