روس اور یوکرین

یوکرین سے روسی افواج کا انخلا ہوا تو پابندیاں اٹھا لیں گے: برطانیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ ماسکو پر عائد پابندیاں اٹھانے کے لیے تیار ہے بشرط یہ کہ روسی افواج یوکرین کی اراضی سے نکل جائیں۔

یوکرین میں روس کے فوجی آپریشن کا آج 32 واں روز ہے۔

برطانیہ کی خاتون وزیر خارجہ لیز ٹراس نے واضح کیا کہ اگر ماسکو مکمل فائر بندی اور اپنی افواج کے کے انخلا پر آمادہ ہو جاتا ہے تو پابندیاں اٹھائی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے یہ بات ہفتے کی شام برطانوی اخبار "سنڈے ٹیلی گراف" کو دیے گئے انٹرویو میں کہی۔

ٹراس نے مزید کہا کہ "کرملن کو یہ بھی وعدہ کرنا ہو گا کہ وہ مستقبل میں کسی اور جارحیت کا ارتکاب نہیں کرے گا یہاں تک کہ روس کی سیکڑوں شخصیات اور اداروں پر عائد پابندیاں اٹھا لی جائیں .. کسی بھی نئے حملے کی صورت میں یہ پابندیاں دوبارہ عائد کی جا سکتی ہیں"۔

برطانوی وزیر خارجہ نے کہا کہ "میں نہیں سمجھتی کہ یہ لوگ (روسی) بات چیت میں سنجیدہ ہیں اسی لیے میرا کہنا ہے کہ ہمیں امن کو یقینی بنانے کے لیے پُر عزم ہونے کی ضرورت ہے"۔

لیز ٹراس نے باور کرایا کہ روس پر پابندیوں اور یوکرین کو بھیجے جانے والے ہتھیاروں میں کئی گنا اضافے کی ضرورت ہے تا کہ مذاکرات کے دوران میں ماسکو پر دباؤ ڈالا جا سکے۔

برطانیہ نے بھی دیگر کئی مغربی ممالک کی طرح گذشتہ ہفتوں میں روس اور بیلا روس سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد اور کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر دیں۔

روس کے اقتصادی سیکٹروں پر عائد مغربی ممالک کی پابندیوں کی تعداد 5 ہزار سے زیادہ ہو چکی ہے۔ اسی طرح روس کی سیاسی شخصیات بھی پابندیوں کی لپیٹ میں آئی ہیں۔ ان میں سر فہرست روسی صدر ولادی میر پوتین ہیں۔ ان کے علاوہ وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف ، کرملن کے ترجمان ، روسی ارب پتی شخصیات ، بینک اور بڑی کمپنیاں شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں