روس اور یوکرین

چرنوبل کے نواح میں روسی سرگرمیوں سے کروڑوں یورپی باشندوں کو خطرات ہیں: یوکرین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یوکرین کی نائب وزیر اعظم ایرینا ورچوک نے الزام عائد کیا ہے کہ روس چرنوبل میں بجلی کے پاور اسٹیشن کے اطراف "غیر ذمے دارانہ" افعال کا مرتکب ہو رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں یورپ کے زیادہ تر حصے کے راستے تابکاری پھیل سکتی ہے۔ ایرینا نے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ ان خطرات کا جائزہ لینے کے لیے ایک مشن بھیجا جائے۔

اس سے قبل روس کے زیر کنٹرول چرنوبل کے ایٹمی توانائی اسٹیشن میں نئی آگ بھڑک اٹھی۔

یوکرین کی نائب وزیر اعظم کے مطابق روسی فوجیوں نے پرانے ہتھیاروں کی بڑی مقدار منتقل کی جس کی ٹھیک طور پر دیکھ بھال بھی نہیں ہوئی۔

اتوار کی شام اپنے ٹیلی گرام اکاؤنٹ پر جاری کیے گئے بیان میں ایرینا کا کہنا تھا کہ اس طرح کے غیر ذمے دارانہ اور غیر پیشہ ورانہ تصرفات نہ صرف یوکرین بلکہ کروڑوں یورپیوں کے لیے نہایت خطر ناک ہیں۔

ایرینا نے عالمی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ چرنوبل کے گرد ممنوعہ علاقے کو ہتھیاروں سے پاک کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ مزید یہ کہ ایک خصوصی مشن بھیجا جائے تا کہ روسی افواج کے تصرفات کے نتیجے میں ماضی میں چرنوبل حادثے جیسا واقعہ دوبارہ رونما نہ ہو۔

روس بارہا اس بات کی تردید کر چکا ہے کہ اس کی افواج نے یوکرین کی اراضی میں واقع اس جوہری تنصیب کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

اپریل 1986ء میں چرنوبل کے ایٹمی پلانٹ میں چوتھا ری ایکٹر زور دار دھماکے سے تباہ ہو گیا۔ اس کے نتیجے میں یورپ کا زیادہ تر حصہ تابکاری سے آلودہ ہو گیا تھا۔

گذشتہ ماہ 24 فروری کو یوکرین کی اراضی میں روس کے فوجی آپریشن کے شروع ہونے کے بعد سے یورپ کے کئی ممالک اور نیٹو کے رکن ممالک سیکورٹی طور پر چوکنا ہو گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں