روس اور یوکرین

روس کا فوجی سرگرمیوں میں تیزی سے کمی لانے کا عندیہ،یوکرین کی غیرجانبداری کی تجویز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

روس نے منگل کے روز ترکی میں امن مذاکرات میں وعدہ کیا ہے کہ وہ کیف اور شمالی یوکرین کے شہر چیرنیہیف کے ارد گرد اپنی فوجی کارروائیوں کو انتہائی کم کردے گاجبکہ یوکرین نے غیرجانبدارحیثیت کی تجویز پیش کی ہے اور خودکو حملوں سے بچانے کے لیے بین الاقوامی ضمانتوں کا مطالبہ کیا ہے ۔

یوکرینی مذاکرات کاروں نے کہا ہے کہ انھوں نے اپنے ملک کی ایک ایسی حیثیت تجویز کی ہے جس کے تحت ان وہ اتحادوں یا غیرملکی فوجیوں کے اڈوں کی میزبانی میں شامل نہیں ہوگا بلکہ نیٹو کی اجتماعی دفاعی شق ’’آرٹیکل 5‘‘ کی طرح اس کی سلامتی کی ضمانت دی جائے گی۔

انھوں نے اسرائیل اور نیٹو کے ارکان کینیڈا، پولینڈ اور ترکی کو ایسے ممالک کے طور پر شناخت کیا جو اس طرح کی ضمانتیں فراہم کرنے میں مدد دےسکتے ہیں۔

یوکرینی مذاکرات کاروں نے استنبول میں صحافیوں کو بتایا کہ ان تجاویز میں روس کے ساتھ الحاق شدہ کریمیا کی حیثیت کے بارے میں 15 سالہ مشاورتی مدت شامل ہوگی اور یہ مکمل جنگ بندی کی صورت میں ہی نافذ العمل ہوسکتی ہے۔

روسی نائب وزیر دفاع الیگزینڈر فومین نے کہا کہ ان کے ملک نے بات چیت کے سازگارحالات پیدا کرنے کی غرض سے کیف اور چرنیہف کے قریب لڑائی کو کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

روس کے اعلیٰ مذاکرات کار ولادی میر میڈینسکی نے کہا کہ وہ یوکرینی تجاویز کا جائزہ لیں گے اور ان پر صدر ولادی میرپوتین کو رپورٹ پیش کریں گے۔منگل کو استنبول میں 10 مارچ کے بعد فریقین کے درمیان پہلی مرتبہ آمنے سامنے مذاکرات ہوئے ہیں۔ روس نے 24 فروری کو یوکرین پر حملہ کیا تھا،اس کو شدید مزاحمت کا سامنا کرناپڑا ہے اوروہ یوکرین کے کسی بھی بڑے شہرپرقبضہ کرنے میں ناکام رہا ہے۔

یوکرین نے اب تک روس سے مذاکرات میں یہ سب سے ٹھوس تجاویز پیش کی ہیں اور کیف نے سرکاری سطح پران کی تشہیرکی ہے۔یوکرینی مذاکرات کار الیگزینڈرشالی نے کہا کہ اگر ہم ان اہم دفعات کو مستحکم کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور ہمارے لیے یہ سب سے بنیادی بات ہے تو یوکرین کسی بلاک میں شامل ہوئے بغیر غیر جوہری ریاست کے طور پراپنی موجودہ حیثیت کو مستقل غیر جانبداری کی شکل میں مستحکم کرنے کی پوزیشن میں آ جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ ہم اپنے علاقے میں غیرملکی فوجی اڈوں کی میزبانی نہیں کریں گے،اس کے علاوہ اپنے علاقے میں فوجی دستے تعینات نہیں کریں گے اور ہم دوسرے ممالک کے ساتھ فوجی سیاسی اتحاد بھی نہیں بنائیں گے۔نیز فوجی مشقیں ضامن ممالک کی رضامندی سے ہوں گی۔

یوکرینی مذاکرات کاروں کا کہنا ہے کہ ان کی تجاویز میں اتنامواد موجود ہے کہ وہ یوکرینی صدرولودی میر زیلنسکی اور روسی صدرولادی میرپوتین کے درمیان ملاقات کا پیش خیمہ بن سکیں۔ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے مذاکرات سے قبل استنبول میں وفود کوبتایا کہ ٹھوس نتائج متوقع ہیں کیونکہ فوری جنگ بندی اور امن ہر کسی کے مفاد میں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں