یوکرین بحران کے باوجود اوپیک پلس پیداوار میں صرف معمولی اضافہ کرنے کوتیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک اورروس کی قیادت میں غیراوپیک ممالک پر مشتمل گروپ کے ذرائع نے بتایا ہے کہ یوکرین بحران کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافے اور صارفین کی جانب سے مزید سپلائی کے مطالبے کے باوجود مئی میں تیل کی پیداوارمیں معمولی اضافہ کیا جائے گا اور اوپیک پلس اس منصوبے پر کاربند رہے گا۔

اوپیک پلس نے اگست 2021 سے ہر ماہ 4لاکھ بیرل یومیہ پیداوار بڑھانے کا ہدف مقرر کیا تھا۔اس نے گذشتہ سال سعودی عرب، روس، عراق، متحدہ عرب امارات اور کویت کے لیے ان کی بنیاد پرتیل کی پیداوار میں مئی سے 432,000 بیرل یومیہ کے اضافے پراتفاق کیا تھا۔

امریکا سمیت تیل کی زیادہ کھپت کرنے والے متعدد ممالک نے پیداکنندگان پرزوردیا ہے کہ وہ خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ اپنی پیداوار میں بھی مزید اضافہ کریں۔ تیل کی عالمی مارکیٹ میں قیمت رواں ماہ 2008 کے بعد سب سے زیادہ 139 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔

لیکن اوپیک کے بڑے رکن ممالک سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات اپنے اہداف کے مطابق پیداوار بڑھانے کو تیارنہیں جبکہ اوپیک پلس نے یوکرین جنگ کے موضوع سے بھی دوری اختیارکرلی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب تیل کی زیادہ پیداوار کو سودے بازی کے حربے کے طور پراستعمال کرنا چاہتا ہے اور وہ مغرب سے یمن میں اپنی جنگ کی مزید حمایت اور ایران سے مجوزہ جوہری معاہدے پر سلامتی کی ضمانت چاہتا ہے۔

اوپیک پلس کے چھے ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ یہ گروپ مئی کے لیے پیداواری منصوبے پر قائم رہے گا۔ان میں سے ایک کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے پیداوار میں بڑے اضافے پراتفاق کرنے میں ہچکچاہٹ بھی ماسکو کے لیے اس کی خاموش حمایت کی عکاسی کرتی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ سعودی محتاط ہیں۔وہ تیل کی پیداوار کو منصوبے سے زیادہ نہیں بڑھانا چاہتے تاکہ یہ ظاہر نہ ہو کہ وہ روس کے خلاف ہیں۔

روسی تیل کے ایک ذریعے نے بتایا کہ روس کو یہ توقع نہیں تھی کہ اوپیک پلس مئی کے لیے اپنے منصوبہ کے مطابق پیداوارمیں اضافہ کرے گا اور اسے امید ہے کہ گروپ میں دوسرے شراکت داراس کی حمایت کریں گے۔

اگرچہ اوپیک پلس نے ہر ماہ اپنے پیداواری ہدف میں اضافہ کیا ہے لیکن پیداوارنے ان اہداف کو پورا نہیں کیا ہے کیونکہ بعض رکن ممالک پیداواری صلاحیت میں حائل رکاوٹوں کے ساتھ جدوجہد کررہے ہیں اور یہ قیمتوں کی بنیاد کا ایک عنصر رہا ہے۔

بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق اوپیک پلس فروری میں اپنے مقررکردہ ہدف کے مطابق گیارہ لاکھ بیرل یومیہ (بی پی ڈی) پیداوارسے محروم رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں