یمن اور حوثی

یمن: عرب اتحاد نے ماہ رمضان میں جنگ بندی کا اعلان کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن میں آئینی حکومت کی بحالی کے لئے سرگرم عرب اتحاد نے ماہ رمضان میں جنگ بندی کا اعلان کیا ہے تاکہ امن مذاکرات کے لئے سازگار ماحول قائم کیا جا سکے۔

عرب اتحاد کی جانب سے یہ اعلان خلیج تعاون کونسل [ جی سی سی] کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر نائف الحجرف کی طرف سے یمن میں جنگ بندی کے مطالبے کے کچھ ہی گھنٹے بعد کیا گیا ہے۔

اتحاد کے ترجمان بریگیڈئیر جنرل ترکی المالکی نے اپنے بیان میں بتایا کہ "شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی آرزو پر عرب اتحاد کی قیادت نے 30 مارچ کو صبح 6 بجے سے جنگ بندی کا اعلان کیا ہے تاکہ امن مذاکرات کی کامیابی کے لئے سازگار ماحول بنایا جائے اور ماہ مقدس رمضان المبارک کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یمن میں سلامتی اور استحکام لایا جاسکے۔"

بیان میں مزید کہا گیا کہ "عرب اتحاد کا یہ اقدام اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے برائے یمن اور سعودی حکومت کی جانب سے یمنی بحران کے خاتمے کے سیاسی حل کی کوششوں کا ہی حصہ ہے۔"

عرب اتحاد نے اس موقع پر ایک بار پھر سے یمن میں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی بحالی کے موقف کو دہرایا۔

یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت اور ایران نواز حوثی ملیشیا کے درمیان امن کے قیام کے لئے امریکا اور اقوام متحدہ کی سربراہی میں سعودی عرب میں مذاکرات کے دور کا پہلا دن منگل کو منعقد ہوا تھا۔

حوثی باغیوں نے ان مذاکرات میں شمولیت سے انکار کر دیا ہے اور حالیہ سالوں میں مذاکرات میں شمولیت کی بار بار دعوتوں کے باوجود کسی پر امن حل کی کوشش کا حصہ بننے سے انکار کرتے آئے ہیں۔

اس سے قبل امریکی خصوصی نمائندہ برائے یمن ٹم لینڈرکنگ خطے کے دورے پر پہنچے جو کہ ان کے دفتر کے مطابق "یمن میں جاری تنازعے کے پر امن حل اور یمنی عوام کو فوری ریلیف فراہم کرنے کی امریکی سفارتی کوششوں کا تسلسل رکھیں گے۔"

امریکی وزارت خارجہ کے مطابق لینڈرکنگ بھی ان مذاکرات کا حصہ بنیں گے اور یمنی شرکاء سے بات چیت کریں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں