یوکرین مُردوں کی تدفین کے لیے بھی محفوط نہیں رہا،مشکل مہینے آرہےہیں:اقوام متحدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اقوام متحدہ کی اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل جوئس مسویا نے سلامتی کونسل کو بتایا ہے کہ ایک ماہ قبل یوکرین پر روس کے حملے کے بعد سے لاکھوں افراد بے گھر ہوچکے ہیں اور بعض علاقوں میں جنگ کے نتیجے میں مرنے والوں کی تدفین کا عمل بھی محفوظ نہیں رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے ایک بیان کے مطابق مسویا نے 15 رکنی کونسل کوبتایا کہ ’’ فی الوقت تنازع میں کمی کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ماریوپول، خارکیف، چرنیہیف اور بہت سے دیگرشہراس وقت محاصرے میں ہیں۔ان شہروں میں صرف صرف ایک ماہ قبل تک ہلچل تھی اورزندگی کی چہل پہل تھی‘‘۔

انھوں نے بتایا کہ یوکرین میں جنگ کے مہلوکین اورزخمیوں میں 99 بچے شامل ہیں۔ بہت سے اسپتال، گھر اور اسکول تباہ ہو چکے ہیں۔مس مسوانے مزید کہا کہ روسی فوج کے محاصرے کا شکار قصبوں اور شہروں میں عام شہریوں کو خوراک، پانی، بجلی، ادویہ اور گرمائش جیسی بنیادی ضروریات تک رسائی حاصل نہیں رہی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ بعض محلوں میں مرنے والوں کو دفن کرنا بھی محفوظ نہیں رہا ہے۔اس تنازع کے چارہفتے بعد یوکرین کے نصف سے زیادہ بچّوں سمیت ایک کروڑ سے زیادہ افراد اپنے گھربار چھوڑ کر جاچکے ہیں۔اس تعداد میں قریباً 65 لاکھ وہ افراد بھی شامل ہیں جو اندرون ملک دربدر ہیں۔

بیان کے مطابق اقوام متحدہ نے یوکرین میں اپنی انسانی امدادی سرگرمیوں میں ’’ڈرامائی طورپر‘‘اضافہ کیا ہے لیکن گولہ باری، لڑائی اور بارودی سرنگوں کے نتیجے میں سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔اس وجہ سے شہریوں کو امداد پہنچانے کی کوششوں میں رکاوٹیں حائل ہورہی ہیں اور سکیورٹی خطرات اس پرمستزاد ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں