برطانیہ نے روس کے پروپیگنڈے بازوں اور سرکاری میڈیا پر پابندیاں عایدکردیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

برطانیہ نے جمعرات کو یوکرین پر حملے کے ردعمل میں کریملن کی مالی اعانت سے چلنے والے دو میڈیا اداروں اور ایک معروف پیش کار کو نشانہ بناتے ہوئے’’روسی پروپیگنڈے بازوں اور سرکاری ذرائع ابلاغ‘‘کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔

برطانیہ نے مجموعی طورپر14 نئی پابندیاں عاید کی ہیں۔اس سے اس سے پہلے روس کے اپنے مغربی پڑوسی ملک پر جنگ مسلط کرنے کے جواب میں ایک ہزار سے زیادہ روسی اور بیلاروسی افراد اور اداروں کے خلاف مختلف ادوار میں پابندیاں عاید کی ہیں۔

وزیرخارجہ لیز ٹرس نے ایک بیان میں کہا کہ برطانیہ نے کریملن کی غلط معلومات کوبے نقاب کرنے اوردنیا کی رہ نمائی میں مدد کی ہے اور پابندیوں کے اس تازہ مرحلے میں ان ’’بے شرم پروپیگنڈے بازوں‘‘ کو نشانہ بنایا گیا ہے جو (ولادی میر) پوتین کی جعلی خبروں اور بیانیے کی تشہیر کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’’ہم روس پر دباؤ بڑھانے اور یوکرین میں پوتین کی ہار کو یقینی بنانے کے لیے مزید پابندیاں عاید کرتے رہیں گے۔ کسی کو بھی استثنا نہیں اور ہر چیز قابل غور ہے‘‘۔

پابندیوں کی تازہ فہرست میں روس کے نیشنل ڈیفنس کنٹرول مرکزکے سربراہ روسی کرنل جنرل میخائل میزنیسیف بھی شامل ہیں۔ان کے بارے میں برطانیہ کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ محصور یوکرینی شہر میں روس کے جنگی اقدامات پر "ماریوپول کا قصائی" کے نام سے مشہور ہوچکے ہیں۔

برطانیہ نے نووستی ٹی وی کو بھی نشانہ بنایا ہےجو عالمی ٹیلی ویژن چینل آر ٹی (سابقہ روس ٹوڈے) اورخبررساں ایجنسی اسپوتنک کو کنٹرول کرنے والی روسیا سیگودنیا کا مالک ہے۔

دریں اثناء برطانیہ نے روس میں ایک مشہور ٹی وی اینکر سرگئی بریلیوف کو بھی نشانہ بنایا ہے اورانھیں ’’صدر پوتین کا پروپیگنڈے باز‘‘قرار دیا ہے۔وہ روس کے سرکاری ٹیلی ویژن چینل روسیا پر پروگرام پیش کرتے ہیں۔

وزارت نے کہا کہ وہ اس سے قبل برطانیہ میں مقیم رہے ہیں لیکن اب وہ برطانیہ میں موجود اپنے کسی بھی اثاثے تک رسائی حاصل نہیں کر سکیں گے اور نہ ہی کاروباری معاملات جاری رکھ سکیں گے۔

گیزپروم میڈیا کے چیف ایگزیکٹو آفیسرالیگزینڈرژاروف، آر ٹی کے منیجنگ ڈائریکٹر الیکسی نیکولوف اور اسپوتنک انٹرنیشنل براڈ کاسٹنگ کے سربراہ اینٹن انیسیموف کے خلاف بھی پابندیوں کی منظوری دی گئی ہے۔

برطانیہ کے براڈ کاسٹنگ ریگولیٹر آفکام نے رواں ماہ کے اوائل میں آر ٹی کا لائسنس فی الفورمنسوخ کردیا تھا اور کہا تھا کہ ملک میں اس کی نشریات جاری رکھنا ’’موزوں اور مناسب‘‘نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں