روس اور یوکرین

روس لیبیا سے جنگجوؤں کی بھرتی کا خواہاں، کیف کے ارد گردفوجیوں کی نئی صف بندی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکا کے محکمہ دفاع پینٹاگون نے پہلی مرتبہ امکشاف کیا ہے کہ روس لیبیا سے کرائے کے جنگجوؤں کی بھرتی شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور یوکرین کے دارالحکومت کیف کے ارد گرد تعینات قریباً 20 فی صد روسی فوجیوں کی کہیں اور صف بندی کی جارہی ہے۔

پینٹاگون کے پریس سیکرٹری جان کربی نے بدھ کو معمول کی بریفنگ میں کہا کہ ’’ہم نے گذشتہ 24 گھنٹے کے دوران میں فوجیوں کے ایک معمولی فی صد کی نئی صف بندی ملاحظہ کی ہے اور ہمارا اندازہ ہے کہ کچھ فوجیوں کی بیلاروس میں دوبارہ صف بندی کی جارہی ہے‘‘۔

انھوں نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ دوبارہ متعیّن کردہ فوج اپنے آبائی گیریژن میں واپس نہیں گئی ہے۔یہ کوئی معمولی نکتہ نہیں ۔ اگر روسی یوکرین میں فوجیوں کی کمی کے بارے میں سنجیدہ ہیں کیونکہ یہ ان کا دعویٰ ہے تو پھرانھیں فوجیوں کوواپس گھربھیج دینا چاہیے‘‘۔

جان کربی کا کہنا تھا کہ روس اب بھی کیف پر فضائی اور زمینی حملے کررہا ہے۔فضائی حملے رک نہیں سکے ہیں اور کیف شہراب بھی بہت زیادہ خطرے میں ہے۔

انھوں نے اپنے گذشتہ بیانات کا اعادہ کیا کہ روس ڈونبس پر حملہ آور ہونے پرتوجہ مرکوزکررہا ہے اور روس کے کرائے کے فوجیوں پر مشتمل ویگنرگروپ نے ڈونبس خطے میں قریباً ایک ہزارجنگجو تعینات کیے ہیں۔

کربی کے بہ قول اب ایک نئی پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ ویگنرگروپ لیبیا سے کرائے کے فوجیوں کی بھرتی کا خواہاں ہے۔ پینٹاگون نے پہلے بھی کہا تھا کہ اس کے پاس شام سے یوکرین میں لڑائی کے لیے جنگجوؤں کی بھرتی کے اشارے موجود ہیں لیکن ترجمان نے لیبیا کا اس ضمن میں پہلی مرتبہ ذکرکیا ہے۔

ایک دفاعی عہدہ دار نے بتایا کہ ایک اورنئی پیش رفت کا مشاہدہ کیا گیا ہےاوروہ یہ کہ روسی فوجی چرنوبل پاور اسٹیشن سے پیچھے ہٹ رہے ہیں اوروہ وہاں سے پڑوسی ملک بیلاروس میں منتقل ہورہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں