روس اور یوکرین

روس کے وعدوں کا یقین نہیں کرتے ہیں : زيلنسكی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یوکرین کے صدر ولودی میر زیلنسکی نے باور کرایا ہے کہ وہ یوکرین میں فوجی آپریشن میں کمی کے حوالے سے روسی وعدوں پر یقین نہیں رکھتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یوکرین کی فوج ملک کے مشرق میں نئے معرکوں کے لیے تیاری کر رہی ہے۔ اس سے قبل روس نے یوکرین کے دارالحکومت کئیف کے اطراف فوجی کارروائیاں روک دینے اور مشرقی علاقے دونباس پر توجہ مرکوز کرنے کا اعلان کیا تھا۔

بدھ کی شام جاری ایک وڈیو پیغام میں زیلنسکی نے مزید کہا کہ "ہم کسی بھی طرح کی چکنی چپڑی باتوں میں نہیں آئیں گے۔ یوکرین کے کسی بھی علاقے سے روسی افواج کا کوئی ابھی انخلا ہمارا دفاع کرنے والوں کے عمل کا نتیجہ ہو گا"۔

زیلنسکی کے مطابق ان کا ملک اس وقت آزادی کی خاطر عالمی مزاحمت کا مرکز بن چکا ہے۔ لہذا یوکرین عالمی برادری سے ہتھیاروں کی فراہمی کے مطالبے کا حق رکھتا ہے۔ ان میں فوجی ٹینک ، طیارے اور توپیں شامل ہیں۔

ادھر پینٹاگان نے روس کی جانب سے کئیف کے اطراف فوجی کارروائی روک دینے کے اعلان کو مشکوک قرار دیا۔ امریکی وزارت دفاع کے مطابق بم باری کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور روسی افواج انخلا نہیں بلکہ از سر تعیناتی عمل میں لا رہی ہیں۔

یاد رہے کہ یوکرین میں روس کے فوجی آپریشن کا آج 36 واں روز ہے۔ گذشتہ ماہ 24 فروری کو شروع ہونے والے آپریشن میں ابھی تک بڑی زمینی کامیابیاں یقینی نہیں بنائی جا سکیں۔ روسی افواج یوکرین کے مشرقی حصے کے سوا بڑے شہروں پر ابھی تک مکمل کنٹرول حاصل نہیں کر سکی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں