امریکی وزارت خارجہ: یمنی نژاد دہشت گرد کے بارے میں معلومات پر خطیر انعام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکی وزارت خارجہ کے اعلان کے مطابق جو کوئی بھی یمنی نژاد امریکی جابر البنا کے بارے میں معلومات فراہم کرے گا اسے پچاس لاکھ امریکی ڈالر انعام دیا جائے گا۔ واشنگٹن جابر پر القاعدہ تنظیم کی فنڈنگ کا الزام عائد کرتا ہے۔

اس بات کا اعلان جمعرات کے روز ٹویٹر پر امریکی وزارت خارجہ کے زیر انتظام مالی انعامات سے متعلق پروگرام کی جانب سے کیا گیا۔

ٹویٹ میں بتایا گیا ہے کہ الجابر پر الزام ہے کہ اس نے دہشت گرد تنظیم القاعدہ کو مادی سپورٹ پیش کی جب کہ یہ امریکی درجہ بندی کے مطابق ایک غیر ملکی دہشت گرد تنظیم ہے۔

یمنی نژاد امریکی شہری جابر البنا FBI کو بھی مطلوب ہے۔ اس کا نام واشنگٹن کو مطلوب ترین افراد کی فہرست میں شامل ہے۔

یمنی اخبار "الشارع" کے مطابق 2006ء میں جابر کو جس کی عمر اُس وقت 41 برس تھی ، صنعاء میں قانونی کارروائی کے لیے 22 دیگر افراد کے ساتھ عدالت میں پیش کیا گیا۔ ان افراد پر حضرموت اور مارب میں تیل کی تنصیبات پر سلسلہ وار خود کش حملوں کی منصوبہ بندی کا الزام تھا۔

سال 2005ء میں صنعاء میں ایک عدالت نے جابر کو دس سال قید کی سزا سنائی تھی۔ یہ سزا 2003ء میں تیل کی تنصیبات پر کار بم حملوں کے مقدمے میں قصور وار ثابت ہونے پر دی گئی۔

جابر امریکا میں نیویارک میں مقیم تھا۔ سال 2001ء میں وہ وہاں سے کوچ کر گیا۔ امریکی انٹیلی جنس کا گمان ہے کہ جابر دیگر افراد کے ساتھ افغانستان میں القاعدہ کے زیر انتظام عسکری تربیتی کیمپ الفاروق میں شامل ہو گیا۔

سال 2004ء میں یمنی حکام نے جابر کو گرفتار کر لیا تھا تاہم وہ دو سال بعد صنعاء میں 22 قیدیوں کے ساتھ جیل سے فرار ہو گا۔

سال 2007ء میں جابر نے کئی ماہ کے مذاکرات کے بعد خود کو یمنی حکام کے حوالے کر دیا تھا۔

امریکا کئی بار یمن سے مطالبہ کر چکا ہے کہ جابر کو اس کے حوالے کیا جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں