سعودی عرب، یو اے ای میں ماہِ صیام کاچاندنظرآگیا، ہفتے کو پہلا روزہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں رمضان المبارک کا چاند نظرآگیا ہے اور ہفتے کو پہلا روزہ ہے۔

سعودی عرب کی عدالتِ عظمیٰ نے جمعہ کی شام نئے ہلال کی رؤیت کا اعلان کیا ہے۔مملکت کے ایک چھوٹے گاؤں حوطاط سدیر میں واقع رصدگاہ نے رمضان کا چاند دیکھنے کی تصدیق کی ہے۔یہ گاؤں سعودی دارالحکومت سے 140 کلومیٹر شمال میں الریاض ، سدیر اور القصیم کے سنگم پر واقع ہے۔

خلیج کے چاردوسرے عرب ممالک بحرین، کویت، قطراور متحدہ عرب امارات نے بھی ہفتے کے روز ماہِ صیام کے آغاز کااعلان کیا ہے جبکہ عُمان نے کہا ہے کہ اس کے ہاں رمضان کا آغاز ایک دن بعد اتوار کومتوقع ہے۔

اس مقدس مہینے میں روزہ دار علی الصباح سے غروب آفتاب تک کھانے،پینے کے علاوہ بعض جائز امورسے گریزکرتے ہیں اور روایتی طور پر شام کو روزہ افطار کرنے کے لیے اہل خانہ اور دوستوں کے ساتھ جمع ہوتے ہیں۔مساجد اورعام عوامی مقامات پر اجتماعی افطار کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

مسلمان اس ماہ میں بدنی اور مالی عبادات کا خوب اہتمام کرتے ہیں۔وہ دن میں روزہ رکھتے اور راتوں کو نمازتراویح کا اہتمام کرتے ہیں۔ مستحقین کو صدقہ، زکوٰۃ خیرات کرتے ہیں اوراختتام رمضان پر پسماندہ طبقات کو عیدکی خوشیوں میں شریک کرنے کے لیے صدقہ فطر دیتے ہیں۔

رمضان المبارک دنیا کے ڈیڑھ ارب سے زیادہ مسلمانوں کے لیے نیکیوں کا موسم بہار کہلاتاہے۔مسلمان چاند دیکھ کر اپنے قمری مہینے کا آغاز کرتے ہیں۔ قمری کیلنڈر 12 ماہ اور 354 یا 355 دنوں پر مشتمل ہوتا ہے۔اسلامی ممالک میں جغرافیائی محل وقوع کی بنا پر نئے قمری مہینے کے چاند کی رؤیت میں ایک آدھ دن کا فرق ہوتا ہے۔

اس مرتبہ بھی مسلسل تیسرے سال دنیا بھرمیں کروناوائرس کی وَبا پھیلنے کے بعد رمضان کے روزے رکھے جارہے ہیں۔ البتہ اب بیشترممالک نے کرونا کے تعلق سے عاید بہت سی پابندیاں ختم کردی ہیں اور مساجد میں نمازتراویح کے اہتمام کی بھی اجازت دے دی گئی ہے۔تاہم بعض پابندیاں ابھی برقرار ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں