شام میں داعش کے جیل پرحملے کے بعد سے کم سے کم100 بچّے لاپتا: اقوام متحدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اقوام متحدہ کے ماہرین نے بتایا ہے کہ شام میں ایک جیل پر داعش کے حملے کے بعد سے وہاں زیرحراست کم سے کم 100 بچّے ابھی تک لاپتا ہیں اور انتہا پسندوں کے جیل پر حملے کے دو ماہ سے زیادہ عرصہ گزرجانے کے باوجود بھی ان بچّوں کا کچھ پتا نہیں چل سکا ہے کہ وہ کہاں ہیں۔

سیودا چلڈرن اور ہیومن رائٹس واچ سمیت انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے اس سے قبل کہا تھا کہ داعش کے حملے سے قبل شام کے شمال مشرقی صوبہ الحسکہ میں کردوں کے زیرانتظام جیل میں کم وبیش 700 لڑکے قید تھے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے جمعہ کوایک بیان میں کہا ہے کہ جنوری 2022ء میں حملے کے بعد سے ان میں سے کم سے کم 100 لڑکوں کے ٹھکانوں کا ہنوزکوئی اتاپتا نہیں چل سکا ہے۔انھوں نے اس پر سخت تشویش کا اظہارکیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے ان کے جانی تحفظ سے متعلق شدید خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ ان میں سے بعض کیس جبری لاپتا کے ہوسکتے ہیں۔

12سے 18 سال کی عمرکے ان قیدیوں میں بہت سے ایسے لڑکے بھی شامل تھے جن کے غویرن جیل کے اندربالغ رشتہ دار قید تھے اورانھیں قریبی بے گھر افراد کے کیمپوں سے جیل میں منتقل کیا گیا تھا۔ان کیمپوں میں انتہاپسند جنگجوؤں کے ہزاروں بچّے مقیم تھے۔

آزاد ماہرین نے کردحکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تمام انسانی تنظیموں کو غویرن جیل میں قید بچّوں تک مکمل اور بلاروک ٹوک رسائی کی اجازت دیں۔اقوام متحدہ کے ماہرین نے کہا کہ ان بچوں کو پہنچنے والے نقصان کی نشان دہی کی جاناچاہیے اوراس کے ذمے داروں کا احتساب ہونا چاہیے۔

واضح رہے کہ داعش کے جنگجوؤں نے غویرن جیل میں قید اپنے ساتھیوں کو رہا کرانے کے لیے ایک بھرپورحملہ کیا تھا۔اس کے بعد کردوں کے زیرانتظام اس جیل کے اندراور اس کے آس پاس ایک ہفتے تک جھڑپیں جاری رہی تھیں اور ان میں سیکڑوں افراد ہلاک ہو گئے تھے۔تاہم کردوں کے زیر قیادت فورسز نے ایک ہفتے کی لڑائی کے بعد جیل پردوبارہ قبضہ کر لیا تھا۔

اقوام متحدہ کے ماہرین نے یہ بھی بتایا ہے کہ بہت سے قیدی لڑکے جیل توڑنے کی کوشش کے دوران میں لڑائی میں شدید زخمی ہوگئے تھے اور ان کے زخموں کا مناسب علاج نہیں ہورہا ہے۔

کرد حکام کا مؤقف ہے کہ جیل سے کوئی قیدی فرار نہیں ہوا تھا لیکن برطانیہ میں قائم جنگی مانیٹر شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق کا کہنا ہے کہ جیل سے متعدد انتہا پسندقیدی فرار ہوگئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں