یمن اور حوثی

یمن میں متحارب فریقوں کے درمیان طے شدہ جنگ بندی پرعمل درآمد کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

یمن میں ہفتے کی شام سے دوماہ کے لیے جنگ بندی پر عمل درآمد کا آغازہوگیا ہے۔جنگ زدہ ملک کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی ہانس گرنڈبرگ نے جمعہ کو متحارب فریقوں کے درمیان طے شدہ اس جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔

انھوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’دوماہ کے لیے جنگ بندی کا آج مقامی وقت کے مطابق شام سات بجے (1600 جی ایم ٹی ) سے آغازہوگیا ہے۔رات سے تمام زمینی، فضائی اور بحری فوجی کارروائیوں کو روک دیاجانا چاہیے‘‘۔

یکم رمضان المبارک سے نافذالعمل ہونے والی یہ جنگ بندی قابلِ تجدید ہے۔اس کے تحت ایندھن سے لدے 18 بحری جہازوں کوالحدیدہ کی بندرگاہ میں لنگراندازہونے کی اجازت ہوگی۔اس کے علاوہ صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے ہفتے میں دوتجارتی پروازوں کو آنے اور جانے کی اجازت ہوگی۔ یہ دونوں شہرحوثی ملیشیا کے زیرانتظام ہیں۔

ایلچی نے بیان میں مزیدکہا ہے کہ حوثی اور عرب اتحاد تعزگورنری اوریمن کے دوسرے علاقوں میں شاہراہوں کو کھولنے کے لیے اقدامات کریں گے۔انھوں نے اس سے اتفاق کیا ہے تاکہ شہریوں کی آزادانہ نقل وحرکت کو بہتر بنایا جاسکے۔

گرنڈبرگ نے واضح کیا ہے کہ ’’جنگ بندی کے اس اقدام کی کامیابی کا انحصار متحارب فریقوں پر ہوگا۔انھیں جنگ بندی کے سمجھوتے پرعمل درآمد کے علاوہ انسانی امدادی اقدامات بھی جاری رکھنا چاہییں‘‘۔

انھوں نے کہا:’’میں یہ بھی امید کرتا ہوں کہ ہم نے تمام فریقوں کی جانب سے جس جذبہ خیرسگالی کوملاحظہ کیا ہے،وہ میڈیا پرتندوتیزبیانات اور نفرت پرمبنی تقاریر کے معاملے میں بھی اس کا اظہار کریں گے‘‘۔

انھوں نےجمعہ کو واضح کیا تھا کہ فریقین کی رضامندی سے جنگ بندی کی اس مدت میں دوماہ کے بعد تجدید بھی کی جاسکتی ہے۔اس جنگ بندی کا مقصد یمنیوں کو تشدد سے ایک ضروری وقفہ دلانا اور انسانی مصائب سے نجات دلانا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس سے ملک میں گذشتہ سات سال سے جاری تنازع کے خاتمے کی راہ ہموار ہوسکے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں