برطانیہ توانائی کے ذرائع کووسعت دے گا،جوہری اور ہوا سے بجلی پیدا کرے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

برطانیہ اس ہفتے اپنے توانائی کے ذرائع کووسعت دینے کے منصوبوں کی تفصیل پیش کررہا ہے کیونکہ یوکرین میں جنگ، روس پر پابندیاں اور روزمرہ اخراجات میں اضافے کے بحران کے پیش نظر یورپ بھر کے ممالک فوری طور پر بجلی اور گھروں کو گرم رکھنے کے طریقے کو بہتربنانے پرمجبورہوگئے ہیں۔

برطانیہ جوہری اورہوا سے بجلی پیداکرنے پرمرکوز کرے گا۔حکومت کے وزیرگرانٹ شپس نے اتوار کے روزکہا ہے کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ مزید جوہری ری ایکٹروں بشمول چھوٹی گنجائش والے ری ایکٹروں اورآف شور ونڈ فارمز کو بڑھانے کی تجاویز کاجائزہ لیا جائے۔اگرچہ وہ ساحل پر مزید ٹربائن لگانے کی وکالت نہیں کرتا۔

برطانیہ کے ٹرانسپورٹ کے وزیرشپس نے اسکائی نیوز کو بتایا کہ میں ساحلی ہوا کے فارموں میں توسیع کا حامی نہیں ہوں - وہ کمیونٹیز کے ساتھ ساتھ شور کے مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔ماحولیاتی تحفظات کی وجوہ کی بنا پراس کے ساتھ جانے کا راستہ بڑی حد تک سمندر پر ہے۔

یوکرین میں جنگ نے یورپ کی توانائی کی درآمدات کو متاثر کیا ہے اور یورپی یونین روس خصوصاً گیس پر انحصار کم کرنے کی کوششوں کو دُگنا کر رہی ہے لیکن روسی صدر ولادی میرپوتین کے یوکرین پر حملے سے قبل ہی گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا تھا اور بعض ممالک کے حکام نے خبردار کیا تھاکہ گیس کے استعمال اور ڈیزل کی کھپت پر کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔

بعد ازاں بی بی سی پر بات کرتے ہوئے شپس نے برطانیہ میں راشن بندی سے انکارکردیا ہے کیونکہ ان کاملک جرمنی جیسی دیگر بڑی یورپی معیشتوں کے مقابلے میں روسی درآمدات پر بہت کم انحصار کرتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ برطانیہ اگرچہ بین الاقوامی مارکیٹ کی وجہ سے اب بھی بڑھتی ہوئی لاگت سے دوچار ہے۔برطانوی حکومت نے گیس اور بجلی کی قیمتوں کو ایک حد میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ چیرٹی گروپوں نے خبردارکیا ہے کہ لاکھوں افراد کو توانائی کی غربت میں دھکیل دیا جائے گا یعنی انھیں گھروں کو گرم رکھنے کے بلوں کی ادائی یا خوراک خریدنے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔

برطانیہ کے لیے فوری چیلنج مختلف ذرائع سے توانائی کی پیداوار کو وسعت دینا ہے۔برطانوی وزیرتجارت کواسی کوارٹینگ چند دنوں کے اندر توانائی کی سلامتی کے نئے منصوبے کی تفصیل کا اعلان کرنے والے ہیں۔ ہوا اور جوہری کے ساتھ ساتھ شمسی توانائی سے بجلی کی پیداوار بڑھانے کی بھی کوشش کی جائے گی۔کوارٹینگ نے روزنامہ ٹیلی گراف کو بتایا کہ برطانیہ توسیع کے حصے کے طور پر 2050 تک سات نئے جوہری بجلی گھر تعمیر کر سکتا ہے۔

اخبار کی رپورٹ کے مطابق وزراء نے سائٹس کی شناخت اور منصوبہ بندی کے عمل کو تیز کرنے کے لیے’’ترقیاتی گاڑی‘‘ کے قیام پراتفاق کیا ہے۔اس کے علاوہ حکومت سیکڑوں منی ری ایکٹروں کی تنصیب پربھی بات چیت کر رہی ہے۔

ٹیلی گراف نے ایک اور رپورٹ میں بتایا ہی کہ جہاں تک ہوا سے بجلی پیدا کرنے کا تعلق ہے تو وزیراعظم بورس جانسن کی نظریں بحیرہ آئرش میں ٹربائنوں کے ایک بڑے فارم پرمرکوزہیں جو12ماہ کے قلیل عرصے میں تعمیر کیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں