روسی افواج یوکرین میں’’نسل کشی‘‘ کررہی ہیں:زیلنسکی کاالزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یوکرین کے صدرولودی میر زیلنسکی نے روس پر اپنے ہم وطنوں کی نسل کشی کا الزام لگایا ہے۔دارالحکومت کیف کے نواح میں موت کے گھاٹ اتارے گئے شہریوں کی اجتماعی قبروں کی دریافت کے ایک دن بعد انھوں نے کہا کہ روس یوکرین کی ’’پوری قوم‘‘کوختم کرنے کے درپے ہے۔

زیلنسکی نے سی بی ایس کے پروگرام ’فیس دا نیشن‘ میں بتایا کہ روسی فوج پوری قوم کے خاتمے کی کوشش کررہی ہے۔یہ نسل کشی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہم یوکرین کے شہری ہیں۔ ہمارے پاس ایک سو سے زیادہ قومیتیں مقیم ہیں۔ یہ ان تمام قومیتوں کی تباہی اور خاتمہ ہے۔

زیلنسکی نے یوکرین میں روسی فوجیوں کی کارروائیوں پرسخت ردعمل کا اظہار کیا ہے جبکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اس پر سخت غم و غصے کا اظہار کیا جارہا ہے۔

روس کے 24 فروری کو حملہ شروع ہونے کے تین دن بعد یوکرین نے دا ہیگ میں قائم عالمی عدالت انصاف میں شکایت درج کرائی تھی جس میں روس پر’’نسل کشی کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی‘‘کا الزام لگایا گیا تھا۔

کیف کے قریب بوچا شہر کی سڑکوں پر شہریوں کی تعفن زدہ لاشوں کی دنیا بھرمیں اتوار کو ایک فوٹیج نشرکی گئی ہے۔اس کے بعد یوکرین کے ایک عہدہ دار نے بتایا کہ وہاں ایک اجتماعی قبرمیں 280 لاشیں دفن کی گئی ہیں۔

اس کے تناظر میں ولودی میرزیلنسکی نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ہم یوکرین کے شہری ہیں اور ہم روسی فیڈریشن کی پالیسی کے مطابق مقہور اور غلام نہیں بنناچاہتے۔ سی بی ایس کے ٹرانسکرپٹ کے مطابق زیلنسکی نے کہا کہ ’’یہی وجہ ہے،ہمیں تباہ اور ختم کیا جا رہا ہےاور یہ اکیسویں صدی کے یورپ میں ہو رہا ہے۔ چناں چہ یہ پوری قوم پر تشدد ہے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں