افغانستان وطالبان

طالبان نے منافع بخش پوست سمیت منشیات کی کاشت پر پابندی عاید کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

طالبان نے دنیا کے سب سے بڑے پوست پیدا کرنے والے ملک افغانستان میں منشیات کی کاشت پرپابندی عاید کرنے کا اعلان کیا ہے۔

طالبان کے سپریم لیڈر ہبۃ اللہ اخوند زادہ کے ایک حکم نامے کے مطابق ’’تمام افغانوں کوبتایاجاتا ہے کہ اب سے ملک بھر میں پوست کی کاشت پرسختی سے پابندی عاید کر دی گئی ہے‘‘۔

کابل میں اتوار کووزارت داخلہ کی جانب سے ایک نیوز کانفرنس میں اعلان کردہ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی اس کی خلاف ورزی کرتا ہے تواس کی فصل کو فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا اور خلاف ورزی کرنے والے کے ساتھ شرعی قانون کے مطابق سلوک کیا جائے گا۔

حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ دیگر منشیات کی پیداوار، استعمال یا نقل وحمل پر بھی پابندی عاید کردی گئی ہے۔

منشیات پرقابو پانا اسلام پسند طالبان سے عالمی برادری کا ایک بڑا مطالبہ رہا ہے۔طالبان نے گذشتہ سال اگست میں ملک پر قبضہ کر لیا تھا۔ وہ تب سے بینک کاری، کاروبار اور ترقی میں شدید رکاوٹ بننے والی بین الاقوامی پابندیوں کے خاتمے اور اپنی حکومت کو باضابطہ طور پر بین الاقوامی سطح پر تسلیم کرانے کے خواہاں ہیں۔

ماہرین کے مطابق طالبان نے 2000 میں اپنی آخری حکومت کے اختتام پر پوست کی پیداوارپرپابندی عاید کردی تھی کیونکہ وہ بین الاقوامی قانونی حیثیت اور حمایت کے حصول کے لیے کوشاں تھے لیکن انھیں عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑا اور بعد میں انھوں اپنا موقف تبدیل کرلیا۔

کسانوں اور طالبان کے ارکان نے رائٹرز کو بتایا کہ افغانستان میں پوست کی پیداوارمیں حالیہ مہینوں میں اضافہ ہوا ہے جس کی مالیت اقوام متحدہ نے 2017 میں اس فصل کےعروج کے دنوں میں 1.4 ارب ڈالر بتائی تھی۔

جنگ زدہ ملک کی سنگین معاشی صورت حال نے جنوب مشرقی صوبوں کے مکینوں کواس غیرقانونی اور ناجائز فصل کو اگانے پر مجبور کردیا ہے جوانھیں گندم جیسی قانونی فصلوں کے مقابلے میں تیزاورزیادہ منافع دے سکتی ہے۔

طالبان ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ انھیں پوست پر پابندی کے خلاف گروپ کے اندربھی بعض عناصر کی جانب سے سخت مزاحمت کا خدشہ ہے اور حالیہ مہینوں میں پوست کی کاشت کرنے والے کسانوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

صوبہ ہلمند کے ایک کسان نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پربتایا کہ حالیہ ہفتوں میں پوست کی قیمتیں پہلے ہی ان افواہوں پر دُگنا سے زیادہ ہو چکی ہیں کہ طالبان اس کی کاشت پر پابندی عاید کردیں گے۔ لیکن ہمیں تواپنے خاندان کی کفالت کے لیے پوست اگانے کی ضرورت ہے کیونکہ دیگر فصلیں اتنی منافع بخش نہیں ہوتی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں