مصری عدالت سے پندرہ سال قبل فارغ طالبہ کا گریڈ بڑھانے کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

عدالتی تاریخ کے ایک عجیب واقعے میں مصر میں سپریم انتظامی عدالت نے ایک پرائیویٹ یونیورسٹی میں انجینیرنگ کی فیکلٹی کو پابند کیا کہ وہ شعبہ آرکیٹیکچر کی ایک طالبہ کو 2006-2007 کے تعلیمی سال کے لیے اس کے گریجویشن پروجیکٹ میں 15 نمبر اضافی دیں۔

عدالت نے تصدیق کی کہ طالبہ کے بیچلر کے پراجیکٹ پیپر میں ہیرا پھیری اور جعلسازی ثابت ہو گئی تھی جس سے اس کا گریڈ 240 کے بجائے 255 ہو گیا تھا۔

اخبار المصری الیوم کی رپورٹ کے مطابق عدالت نے اپنے فیصلے کی وجوہات کی بنیاد اس حقیقت پر رکھی کہ یہ ثابت ہوا کہ طالبہ نے 2006-2007 کے تعلیمی سال میں فیکلٹی - ڈیپارٹمنٹ آف آرکیٹیکچر - میں چوتھے سال کا امتحان دیا تھا۔ اس نے انڈرگریجویٹ پروجیکٹ کے مضمون میں بہت اچھا گریڈ حاصل کیا تھا۔

معلوم ہوا کہ اس نے 240/300 کا کل سکور حاصل کیا تھا۔ اس نے اپنے امتحانی پرچوں کی جانچ پڑتال کے دوران ہیرا پھیری کی تحقیقات کی سفارش کی تھی۔

اس کا انکشاف فرانزک میڈیسن اتھارٹی کی رپورٹ سے ہوا جسے عدالت نے اس کی حفاظت کی یقین دہانی کرائی ہے۔

عدالت نے تحقیقات کے دوران دیکھا کہ طالبہ کے نمبرں میں ٹمپرنگ کی گئی ہے۔ اس کے 115 نمبروں کو سیاہی مٹانے والےسفید ریمورر کے ذریعے کم کرکے 100 کیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں