ایران مذاکرات میں تعطل کے بعد سپلائی خدشات کے پیش نظر تیل کی قیمتوں میں اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

جرمنی کی جانب سے روس پرمزید پابندیوں کے انتباہ اور ایران جوہری معاہدے کی بحالی کے مذاکرات میں تعطل کے بعد عالمی مارکیٹوں میں تیل کی قیمتوں میں قریباًایک ڈالر فی بیرل کا اضافہ ہوا ہے جبکہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی رسد میں کمی کے خدشات کااظہار کیا گیا ہے۔

سوموار کو 0728جی ایم ٹی تک برینٹ کروڈ کے مستقبل کے سودے 94 سینٹ یا 0.9 فی صد اضافے کے ساتھ 105.33 ڈالر فی بیرل میں ہوئے ہیں جبکہ یوایس ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ 92 سینٹ یا 0.9 فی صد اضافے کے ساتھ 100.19 ڈالرمیں فروخت ہوا ہے۔

آج مارکیٹوں کے آغاز پردونوں جگہ تیل کی فی بیرل قیمت میں ایک ڈالر کی کمی واقع ہوئی تھی لیکن ایران نے امریکا پر2015 کے جوہری معاہدے کی بحالی کے مقصد سے مذاکرات میں تعطل کاالزام عاید کیا ہے،اس کے بعد مارکیٹ میں تیزی آئی ہے۔

ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے عالمی طاقتوں کے اب تک غیرنتیجہ خیزمذاکرات کے علاوہ یوکرین پر روس کے حملے کے ردعمل میں مغربی ممالک نے روسی خام تیل اور تیل کی مصنوعات کی برآمدات پر پابندیاں عاید کردی ہیں۔

جرمنی نے اتوار کے روز روسی افواج پر کیف کے قریب جنگی جرائم کے الزامات کے بعد کہا ہے کہ مغرب آیندہ دنوں میں روس پرمزید پابندیاں عاید کرنے پررضامند ہو جائے گا۔ روس نے یوکرین کے جنگی جرائم کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔وہ یوکرین میں اپنی فوجی کارروائی کو’’خصوصی فوجی آپریشن‘‘کہتا ہے اور اس کا مقصد یوکرین کو غیر فوجی بنانا ہے۔

یورپ کی پابندیوں کے بعد عالمی مارکیٹ میں روسی تیل کی رسد میں کمی کا تخمینہ 10 لاکھ سے 30 لاکھ بیرل یومیہ (بی پی ڈی) تک ہے جس سے عالمی منڈیاں مزید دباؤ کا شکار ہوجائیں گی۔

گولڈمین سچز کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ معمول کے ذخائرتاریخ میں نچلی سطح پر ہیں اورموسمی طور پرقابل تطابق خسارہ بڑھتاجارہا ہے۔انھوں نے کہا کہ رواں موسم گرما میں بین الاقوامی سفر کی واپسی کے ساتھ جیٹ ایندھن کی کھپت میں بڑے پیمانے پر اضافہ متوقع ہے۔

گولڈمین سچزنے چین میں کووِڈ-19 کو دوبارہ پھیلنے سےروکنے کے لیے لاک ڈاؤن اور امریکا کی جانب سے تزویراتی ذخائر کے ریکارڈ اجراء کے باوجود ایندھن کی سخت رسداور مضبوط طلب کی پیشین گوئی کی ہے۔اس نے یہ پیشین گوئی بھی کی ہے کہ 2023 میں تیل کی قیمت 110 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر115 ڈالر فی بیرل تک ہوجائے گی۔

گذشتہ ہفتے امریکی صدر جو بائیڈن کے اس اعلان کے بعد تیل کی قیمتوں میں قریباً 13 فی صد کمی واقع ہوئی تھی کہ مئی سے شروع ہونے والے چھے ماہ کے لیے امریکا کے تزویراتی پیٹرولیم ذخائر(ایس پی آر) سے 10 لاکھ بیرل تک یومیہ تیل فروخت کیا جائے گا۔ بائیڈن نے کہا کہ یہ اجراء چھے ماہ میں تیسری بار اس وقت تک پل کا کام کرے گا جب تک تیل کے ملکی پیداکنندگان پیداوار کو فروغ نہیں دے سکتے اور رسد اور طلب میں توازن پیدا نہیں کر سکتے۔

امریکا کے محکمہ توانائی نے ہنگامی ذخائر سے تیل کی فروخت کا باضابطہ خاکہ پیش کیا ہے جبکہ بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) کے اراکین نے بھی گذشتہ جمعہ کو مزید تیل جاری کرنے پر اتفاق کیا تھا۔آئی ای اے نے کہا کہ اس ہفتے حجم کو عام کیا جائے گا۔

دنیا میں تیل کے سب سے بڑے درآمد کنندہ چین میں اس کے سب سے زیادہ آبادی والے شہرشنگھائی میں کووڈ-19 کے لاک ڈاؤن میں توسیع کے بعد طلب کے خدشات برقرار ہیں۔چین کی وزارت ٹرانسپورٹ کو توقع ہے کہ ملک میں کووڈ-19 کے کیسوں میں دوبارہ اضافے کے بعد اتوار سے شروع ہونے والی تین روزہ چنگمنگ چھٹی کے دوران میں سڑکوں پر ٹریفک میں 20 فی صد کمی کا امکان ہے اور پروازوں میں 55 فی صد کمی آئے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں