ایران

پاسداران کا نام دہشت گردی کی فہرست سے خارج کیا تو اس کے ارکان امریکا میں داخل ہوں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اس بات کا غالب گمان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایران کے ساتھ امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے نئے جوہری معاہدے میں ایک خامی رہے گی جو دہشت گردی کے ساتھ مربوط ایرانی شہریوں کو امریکا میں داخل ہونے اور وہاں رہنے کی اجازت دے گا۔ یہ بات ایوان نمائندگان میں ریپبلکن پارٹی کے ارکان کی جانب سے تیار کیے گئے ایک سیاسی تجزیے میں بتائی گئی۔ یہ تجزیہ امریکی اخبار "واشنگٹن فری بیکن" نے شائع کیا ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ جوہری معاہدے کے حوالے سے جاری مذاکرات میں رعایت پیش کرنے پر غور کر رہی ہے۔ اس کا مقصد ایرانی پاسداران انقلاب کا نام دہشت گردی سے متعلق امریکی فہرست سے خارج کرنا ہے۔

کانگریس میں ریپبلکن پارٹی کی سب سے بڑی باڈی RSC کے نئے جائزے کے مطابق اگر بائیڈن انتظامیہ نے ایرانی پاسداران انقلاب کا نام فہرست سے خارج کیا تو یہ اقدام ایرانی دہشت گردوں کے لیے امریکا میں داخلے کا دروازہ کھول دے گا۔ مزید یہ کہ قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے لیے امریکا میں کام کرنے والے ایرانی پاسداران انقلاب کے عناصر کو ہدف بنانا مشکل ہو جائے گا۔

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایرانی پاسداران انقلاب کو ایک غیر ملکی دہشت گرد تنظیم کا درجہ دیا تھا۔ اس کا مقصد تہران میں اس نیم فوجی فورس کی طاقت کو مفلوج کرنا تھا۔ پاسداران انقلاب 600 سے زیادہ امریکیوں کی ہلاکت کے علاوہ امریکی فورسز پر علاقائی سطح پر درجنوں دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی کی ذمے دار ہے۔

یہ گمان بھی کیا جا رہا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ کو ایرانی پاسداران انقلاب کا نام دہشت گردی کی امریکی فہرست سے خارج کرنے کے سلسلے میں کانگریس کی مںظوری حاصل کرنے میں مشکل پیش آئے گی۔

یاد رہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جب ایرانی پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم کا درجہ دیا تھا تو اس اقدام کے سبب پاسداران سے مربوط تمام ایرانی ذمے داران کا امریکا میں داخلہ ممنوع ہو گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں