امریکا کا اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں روس کی رکنیت معطل کرنے پرزور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے روس کو انسانی حقوق کونسل سے معطل کرنے پر زوردے گا۔اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نے پیر کے روز کہا ہے کہ یوکرین کے روسی فوجیوں پر بوچا شہر میں درجنوں شہریوں کو قتل کرنے کے الزام کے بعدیہ فیصلہ کیا گیا ہے۔

نیویارک میں اقوام متحدہ کی 193 ارکان پر مشتمل جنرل اسمبلی میں دو تہائی اکثریت سے ووٹ کے ذریعے انسانی حقوق کی مسلسل، سراسراور منظم خلاف ورزیوں کے ارتکاب پر کسی ریاست کی کونسل کی رکنیت کو معطل کیا جاسکتا ہے۔

بخارسٹ میں نیوزکانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے سفیر لنڈا تھامس گرین فیلڈ نے کہا:’’انسانی حقوق کونسل میں روس کی شرکت ایک ڈھونگ ہے اوریہ غلط ہے، یہی وجہ ہے کہ ہم سمجھتے ہیں،اب وقت آگیا ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اسے ہٹانے کے لیے ووٹ دے‘‘۔

لنڈا تھامس گرین فیلڈ نے رائٹرز کو بتایا کہ امریکاروس کو معطل کرنے کے اقدام کو رواں ہفتے جنرل اسمبلی میں رائے شماری کے لیے پیش کرنا چاہتا ہے۔

واضح رہے کہ 24فروری کو یوکرین پر حملہ شروع ہونے کے بعد سے اسمبلی نے روس کی مذمت میں دو قراردادیں منظورکی ہیں۔کم سے کم 140ارکان نے ان کے حق میں ووٹ دیا ہے جبکہ روس کا کہنا ہے کہ وہ یوکرین کے فوجی بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے کے لیے’’خصوصی فوجی آپریشن‘‘کررہا ہے۔

رومانیہ کا دورہ کرنے والی لنڈاتھامس گرین فیلڈ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان 140 ممالک کے لیے میرا پیغام ہے جو ہمت کے ساتھ اکٹھے کھڑے ہیں:’’بوچا سے سامنے آنے والی تصاویراور یوکرین بھر میں تباہی اب ہم سے اپنے الفاظ کو عملی کارروائی سے ہم آہنگ کرنے کا تقاضا کررہی ہے‘‘۔

روس جنیوا میں قائم 47 رکن ممالک پر مشتمل انسانی حقوق کونسل کا تین سال کی مدت کے لیے رکن ہے اور یہ اس کی رکنیت کا دوسرا سال ہے۔اقوام متحدہ میں ماسکو کے مشن نے فوری طور پر امریکی سفیر کے اس بیان پر کوئی ردعمل جاری نہیں کیا ہے۔

کونسل قانونی طور پر پابند فیصلے نہیں کرسکتی لیکن اس کے فیصلے اہم سیاسی پیغامات کے حامل ہوتے ہیں اور وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کی تحقیقات کو مجاز بنا سکتی ہے۔

اس نے گذشتہ ماہ روس کے حملے کے بعد یوکرین میں ممکنہ جنگی جرائم سمیت انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کی تحقیقات کا اعلان کیا تھا۔بتیس اراکین نے یوکرین کی طرف سے پیش کردہ قرارداد کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ روس اوراریٹیریا نے اس کی مخالفت میں ووٹ دیا جبکہ چین سمیت 13ممالک نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا تھا۔

دریں اثناء بوچا کے ڈپٹی میئر نے بتایا کہ روسی فوج کے انخلا کے بعد قریباً 50 لاشیں ایسی ملی ہیں، جنھیں روسی فوجیوں نے ماورائے عدالت ہلاک کیا تھا۔یوکرینی حکام نے بتایا کہ وہ وہاں ممکنہ جنگی جرائم کی تحقیقات کررہے ہیں۔ کریملن نے بوچاشہر میں شہریوں کے قتل عام سے متعلق کسی بھی الزام کی واضح طور پر تردید کی ہے۔

امریکا کا کہنا ہے کہ یوکرین میں جنگی جرائم کا ارتکاب کیا گیا ہے اور امریکی ماہرین اسے ثابت کرنے کے لیے شواہد اکٹھے کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں