ایرانی مشیرنے روس کے دفاع میں امریکی صدربائیڈن کونسل پرستانہ کچرے کا ٹکڑا قراردے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کی جوہری مذاکراتی ٹیم کے ایک اعلیٰ مشیرمنگل کو روس کے دفاع میں کھل کر سامنے آگئے ہیں اور انھوں نے امریکی صدرجو بائیڈن کوروسی ہم منصب ولادی میر پوتین کو جنگی مجرم قرار دینے پر’’کُوڑے کا نسل پرستانہ ٹکڑا‘‘قرار دے دیا ہے۔

محمد مرندی نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے:’’جب اوباما اور سعودی عرب نے یمن کو تباہ کیا تو کوڑے کا یہ نسل پرستانہ ٹکڑا نائب صدرتھا۔ بائیڈن نے عراق پر حملے اور قبضے کی بھی حمایت کی۔ وہ لیبیا کے خاتمے میں ملوّث تھے اورانھوں نے شام میں داعش اور القاعدہ کی حمایت کی تھی۔ کیا نسل پرست مغربی اشرافیہ کو کوئی شرم نہیں ہے؟‘‘

ویانا میں ایران کی مذاکراتی ٹیم کے مشیرمرندی نے بائیڈن کی ایک ویڈیو پراپنا تبصرہ ٹویٹ کیا ہے۔اس میں بائیڈن نے روسی صدر کو جنگی مجرم قرار دیا ہے۔

بائیڈن نے پیر کے روز صحافیوں کو بتایا کہ ’’آپ کو یاد ہوگا کہ مجھے پوتین کو جنگی مجرم کہنے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ ٹھیک ہے، اس معاملے کی سچائی یہ ہے کہ ہم نے دیکھا کہ بوچا میں کیا ہوا تھا‘‘۔

امریکی صدر نے اختتامِ ہفتہ پرشیئر کی گئی تصاویر میں یوکرینی قصبے کی سڑکوں پر پھینکی گئی شہریوں کی لاشیں دکھائی ہیں اور بوچا میں ہونے والے مظالم کے بارے میں بات کی ہے۔

روس نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ یہ وارنٹ وہ ایک جنگی مجرم ہے۔گذشتہ ماہ یوکرین پر روس کے حملے کے بعد پہلی مرتبہ اس کی فوج کی سفاکیت کی تفصیل سامنے آئی ہے اور اس کے شہر روسی فوج کے قبضے اور پھرانخلا کے بعد دکھائے گئے تھے۔اتوار کے روز ایرانی مشیر مرندی نے بھی ماسکو کے دفاع میں بوچا قتل عام کی تردید کی تھی۔

یہ پہلا موقع نہیں جب مرندی نے اس طرح کے بے ہودہ تبصرے کیے ہیں۔یکم اپریل کو اس نے سعودی عرب کو دھمکی دی اور کہا کہ وہ ’’قسمت سے کھیل رہے ہیں‘‘۔

مبیّنہ طور پر مرندی امریکہ میں پیدا ہوئے تھے جس کی وجہ سے وہ امریکی شہری بن گئے تھے۔ وہ ایران کے سابق وزیر صحت ہیں اورانھوں نے ’’ایران پر امریک کے حمایت یافتہ حملے کے خلاف لڑائی میں شرکت پرفخر کیا ہے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں