مسجد حرام میں نقل وحمل کے لیے لکڑی کی ریڑھیوں سے جدید برقی گاڑیوں تک کا سفر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

صدارت عامہ برائے امور حرمین شریفین نے تمام شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے زائرین اور حرم مکی میں آنے والوں کی خدمت جاری رکھی ہوئی ہے۔

مسجد حرام میں زائرین بیت اللہ کے لیے شروع کی گئی سروسز میں جدید الیکٹرک گاڑیان شامل کی گئی ہیں جو ہلکے وزن کے ڈیزائن کے ساتھ، الیکٹرک موٹر (پاور گلائیڈ) کے ساتھ اسمارٹ انجینیرنگ کے ذریعے ڈیزائن کی گئی ہیں۔ یہ گاڑیاں نقل و حمل، فولڈ اور چلنے میں زیادہ آسان اور انسان دوست ہیں۔

غیر معمولی ترقی

گذشتہ برسوں کے دوران مسجد حرام میں حجاج، معتمرین اور زائرین کے سہولیات پر مبنی خدمات میں بڑی ترقی ہوئی ہے ان میں گاڑیوں کی سروس بھی شامل ہے۔ یہ سروس صدارت عامہ برائے امور حرمین شریفین کی نگرانی میں فراہم کی گئی ہے۔

مسجد حرام میں استعمال کے لیے وہیل کی سروسز متعدد طریقوں سے فراہم کی جاتی رہی ہے۔ ایک وقت تھا کی سبز اسفنج سے ڈھکے لکڑی اور لوہے سے بنی وہیل بارز استعمال کی گئیں۔ پھر ہلکے وزن والی وہیل باروز آئیں جو مسجد حرام میں اس کے لیے مقرر کردہ پوائنٹس اور مراکز کے ذریعے تقسیم کی جاتی ہیں۔

خصوصی دیکھ بھال

خادم الحرمین الشریفین کی حکومت نے مسجد حرام اور مسجد نبوی میں زائرین پر خصوصی توجہ دی ہے کیونکہمسجد حرام کی پوری تاریخ میں مسلسل تعمیر،و توسیع، دیکھ بھال اور ترقی کا کام جاری رہا ہے۔

مسجد حرام کے کاروباری نظام کی ترقی کا مشاہدہ کر رہی ہے۔ ایوان صدر نے جدید الیکٹرک گاڑیوں کی سروس بین الاقوامی خصوصیات اور معیارات کے ساتھ متعارف کرائی ہے۔

صدارت عامہ نے بھی ایک ایپلی کیشن (نیویگیشن) فراہم کر کے سمارٹ ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جو کہ خانہ خدا کے مہمانوں کے لیے طواف کے موقع پر برقی اور باقاعدہ گاڑیاں بک کروانے کا ایک آسان طریقہ ہے۔

ایڈوانس ریزرویشن میکانزم

یہ ایپلیکیشن ٹکٹوں کی فروخت کے مقامات پر ہجوم کو کم کرنے اور صارفین کو گاڑیاں فراہم کرنے کے لیے پہلے سے بکنگ کا طریقہ کار فراہم کرتی ہے۔ جس میں کریڈٹ کی ادائیگی کے بعد زائرین کو چوبیس گھنٹے دسیاب ہوتی ہے۔

ایجنسی فار فیلڈ سروسز اینڈ افیئرز اینڈ انوائرمنٹل پروٹیکشن مسجد حرام کے اندر گاڑیوں کی نگرانی کرتی ہے اور شرائط پر پورا اترنے والوں کو ورک پرمٹ دیتی ہے۔ تاکہ زائرین کو عبادت آرام اور سکون مہیا جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں