کیا امریکہ نے عمران خان کو دورۂ ماسکو سے روکنے کی کوشش کی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

روس کی وزارتِ خارجہ نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکہ نے دورۂ روس منسوخ نہ کرنے پر 'نافرمان' عمران خان کو سزا دینے کا فیصلہ کیا۔

روس کی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریا زخارووا نے پیر کو جاری ایک بیان میں کہا کہ ''عمران خان کی جانب سے 23 اور 24 فروری کو ماسکو کے دورے کے اعلان کے فوری بعد امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے وزیرِ اعظم پر شدید دباؤ ڈالنا شروع کیا اور ان سے دورۂ ماسکو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔''

انہوں نے کہا کہ ''جب عمران خان روس کے دورے پر آئے تو امریکی نائب وزیر خارجہ برائے جنوبی ایشیا ڈونلڈ لیو نے واشنگٹن میں پاکستانی سفیر کو طلب کیا اور مطالبہ کیا کہ یہ دورہ فوری طور پر روکا جائے، مگر یہ مطالبہ بھی مسترد کردیا گیا۔''

روسی وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ''پاکستانی میڈیا کے مطابق سات مارچ کو پاکستانی سفیر اسد مجید سے ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار (ممکنہ طور پر ڈولنڈ لیو) کی گفتگو میں یوکرین کی صورتِ حال پر پاکستانی قیادت کی متوازن گفتگو کی سخت مذمت کی اور واضح کیا کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات صرف اسی صورت ممکن ہیں اگر عمران خان کو اقتدار سے ہٹا دیا جاتا ہے۔''

ماریا زخارووا نے الزام لگایا کہ ''اس صورتِ حال میں مزید پیش رفت پر اس بات میں کوئی شک نہیں رہتا کہ امریکہ نے ''نافرمان'' عمران خان کو سزا دینے کا فیصلہ کیا۔ عمران خان کی جماعت کے لوگ ''اچانک'' اپوزیشن کے پاس چلے گئے اور حکومتی سربراہ کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد فوری طور پر پارلیمنٹ میں جمع کرادی گئی۔ جس پر تین اپریل کو ووٹنگ شیڈول تھی۔''

روس نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ''یہ امریکہ کی ایک آزاد ریاست کے اندرونی معاملات میں اپنے ذاتی مقاصد کے لیے مداخلت کی شرمناک کوشش ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ پاکستانی ووٹرز جب الیکشن کے لیے آئیں گے تو انہیں اس صورتِ حال سے آگاہ کیا جائے گا، جو قومی اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد اگلے نوے روز میں منعقد ہونے چاہئیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں