یمنی دھڑوں کے درمیان ریاض مذاکرات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے: یمنی سیاست دان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

خلیج تعاون کونسل کے زیر اہتمام سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں یمن کے بارے میں مشاورتی اجلاس چھٹے روز بھی جاری رہا۔

ریاض میں یمنی فریقین کے درمیان مشاورت میں شریک سیاستدانوں نے سیاسی، عسکری، سیکیورٹی اور اقتصادی امور پر بات چیت میں اہم پیش رفت کا عندیہ ظاہر کیا ہے۔

ایک رہ نما نے العربیہ اور الحدث چینلز کو بتایا کہ منی ورکنگ گروپس نے یمن کو سیاسی طور پر درپیش چیلنجوں پر بات چیت کی۔ خاص طور پر حوثی ملیشیا کی مداخلت اور اس کی پرامن کوششوں میں رکاوٹ کے حوالے سے فریقین کے نظریات اور خیالات میں قربت پیدا کرنے اور اختلافات کو کم کرنے پر تبادلہ خیال کیا۔

اجلاسوں میں عدم توازن اور بدعنوانی کے محور کی نشاندہی کرتے ہوئے سکیورٹی، عسکری اور اقتصادی صورتحال کی تشخیص پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

انسانی ہمدردی، سماجی اور میڈیا چیلنجوں پر بات کرنے کے علاوہ ان مسائل کو ترجیح دینا ہے جن کے فوری علاج کی ضرورت ہے۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یمنی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل عبدہ مجالی نے انکشاف کیا ہے کہ حوثی ملیشیا نے مارب، تعز اور حدیدہ کے محاذوں پر متعدد خلاف ورزیاں کی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حوثی ملیشیا کی طرف سے اقوام متحدہ کے اعلان کردہ جنگ بندی کی پاسداری نہیں کی جا رہی۔

یمنی فوج کے ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اخبار "الشرق الاوسط" کی رپورٹ کے مطابق حوثی ملیشیا نے معاہدوں کی خلاف ورزی کی ہے اور یمنی فوج نے حوثیوں کی متعدد کارروائیوں کو ناکام بنا دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں