سعودی عرب کےانسانی ادارے نے یمن میں 3لاکھ 29 ہزار سے زیادہ بارودی سرنگیں صاف کردیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب میں قائم شاہ سلمان انسانی امداد اور ریلیف مرکز(کے ایس ریلیف) نےیمن میں 3لاکھ 29 ہزار سے زیادہ زمینی بارودی سرنگوں کو تلف کردیا ہے۔ کے ایس ریلیف نے جنگ زدہ یمن میں 2018 میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے ایک بڑے منصوبے پر کام شروع کیا تھا۔

سعودی پریس ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اس منصوبے کے تحت یمن میں رہائشی علاقوں، سڑکوں، اسکولوں اور کھیتوں میں نصب کی گئی بارودی سرنگوں کو ہٹا کر’’لاکھوں افراد‘‘کو بچالیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے جگہ جگہ بارودی سرنگیں بچھا رکھی ہیں۔اقوام متحدہ کے توثیق شدہ کنونشن کے تحت افراد مخالف بارودی سرنگوں کے استعمال، ان کی ذخیرہ اندوزی، پیداوار اور منتقلی ممنوع ہے۔1997 میں 150 سے زیادہ ممالک نے اس کنونشن کو اپنایا تھا۔

یمن میں کے ایس ریلیف کی 32 ٹیمیں بارودی سرنگیں صاف کرنے کا کام کررہے ہیں اور ان میں قریباً 450 ماہرین شامل ہیں۔ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے انسانی ادارے نے اس منصوبے میں مسلسل چوتھے سال توسیع کی ہے تاکہ پورے یمن میں امن وسلامتی کے ماحول میں اضافہ کیاجا سکے۔

تنظیم کی ویب سائٹ پر جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اب تک کے ایس ریلیف یمن کو دی جانے والی امداد پر 4 ارب ڈالر سے زیادہ خرچ کر چکا ہے۔اس میں سے 1.3 ارب ڈالر یمن میں غذائی تحفظ اورغذائی اجناس کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے مہیا کیے گئے ہیں۔

نیز کے ایس ریلیف کے منصوبے کے تحت یمن میں 61ہزار سے زیادہ بچے ’بچّہ فوجی بحالی پروگرام‘سے مستفید ہورہے ہیں جبکہ 6 اپریل 2022 تک 26,000 سے زیادہ بچّوں کو’مصنوعی اعضاء پروگرام‘ کے تحت مدد مہیا کی گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں